شکوہ بند نمبر 10

شکوہ بند نمبر 10 کون سی قوم فقط تیری طلبگار ہوئی؟ اور تیرے لئے زحمت کشِ پیکار ہوئی؟ کس کی شمشیرِجہانگیر جہاندار ہوئی؟ کس کی تکبیر سے دنیا تیری بیدار ہوئی؟ کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے؟ مُنہ کے بل گر کے ھُوَاللہُ اَحَد کہتے تھے؟

شکوہ بند نمبر 9

شکوہ بند نمبر 9 تُو ہی کہہ دے کہ اُکھاڑا درِ خیبر کس نے؟ شہر قیصر کا جو تھا اس کو کیا سر کس نے؟ توڑے مخلوقِ خداوندوں کے پیکر کس نے؟ کاٹ کر رکھ دیئے کفار کے لشکر کس نے؟ کس نے ٹھنڈا کیا آتشکدہء ایراں کو ؟ کس نے پھر زندہ کیا تذ

شکوہ بند نمبر 8

شکوہ بند نمبر 8 ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اَڑ جاتے تھے پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اُکھڑ جاتے تھے تُجھ سے سرکش ہوا کوئی ، تو بگڑ جاتے تھے تیغ کیا چیز ہے ہم توپ سے لڑ جاتے تھے نقش توحید کا ہر دل میں بٹھایا ہم نے زیرِ خنجر بھی

شکوہ بند نمبر 7

شکوہ بند نمبر 7 ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مُصیبت کے لئے اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لئے تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لئے سر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لئے؟ قوم اپنی جو زرومال جہاں پر مرتی بُت فروشی کے عوض بُت شکنی

شکوہ بند نمبر 6

شکوہ بند نمبر 6 تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں خُشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میں دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

شکوہ بند نمبر 5

شکوہ بند نمبر 5 بَس رہے تھے یہیں سلجوق بھی ، تُورانی بھی اہلِ چیں چین میں ، ایران میں ساسانی بھی اسی معمورے میں آباد تھے یُونانی بھی اسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھی پر ترے نام پہ تلوار اُٹھائی کس نے؟ بات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نے؟

شکوہ بند نمبر 4

شکوہ بند نمبر 4 ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر کہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر خُوگرِ پیکرِ محسوس تھی انساں کی نظر مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر؟ تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟ قوتِ بازوئے مُسلم نے کیا کام ترا

شکوہ بند نمبر 3

شکوہ بند نمبر 3 تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیم پُھول تھا زیب چمن ، پر نہ پریشاں تھی شمیم شرطِ انصاف ہے ، اے صاحبِ الطافِ عمیم بُوئے گُل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم ہم کو جمیعتِ خاطر یہ پریشانی تھی ورنہ امت تری محبوب کی دیوانی تھی

شکوہ بند نمبر 2

شکوہ بند نمبر 2 ہے بجا شیوہ تسلیم میں مشہور ہیں ہم قصہء درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم سازِ خاموش ہیں ، فریاد سے معمور ہیں ہم نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم اے خدا ! شکوہ ء اربابِ وفا بھی سن لے خُوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ

شکوہ بند نمبر 1

شکوہ بند نمبر 1 کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہُوں؟ فکرِ فردا نہ کروں ، محوِ غمِ دوش رہوں نالے بلبل کے سنوں ، اور ہمہ تن گوش رہوں ہمنوا ! میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں جُرات آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ