اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی(غزل)

اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی اُداسی، بے دِلی، آشفتہ حالی میں کمی کب تھی ہماری زندگی! یارو ہماری زندگی کب تھی علائق سے ہُوں بیگانہ ولیکن اے دلِ غمگِیں تجھے کچھ یاد تو ہوگا، کسی سے دوستی کب تھی حیاتِ چند روزہ بھی، حیاتِ جاوِداں نِکلی ! جو کام آئی جہاں

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی ( تشریح)

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی شعر نمبر 1: دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی مشکل الفاظ کے معنی: لہر: موج، خیال کا جوش، تڑپ۔ تازہ ہوا: خوشگوار جھونکا، یادِ یار۔ مفہوم: میرے دل میں اچانک ایک تڑپ اور یاد کی لہر پیدا ہوئی ہے،

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(تشریح)

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(تشریح) شعر نمبر 1: نہ گیا کوئی عدم کو دلِ شاداں لے کر کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر مشکل الفاظ کے معانی: عدم: موت، وہ جگہ جہاں کچھ نہ ہو، آخرت۔ دلِ شاداں: خوش دل، مسرور دل۔ حسرت و ارماں: ادھوری خواہشات، نا

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(غزل)

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر یاں سے کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر کیا خطا مجھ سے ہوئ رات کہ اس کافر کا میں نے خود چھوڑ دیا ہاتھ میں داماں لے کر باغ وہ دست جنوں تھا کبھی

کیا فرق داغ و گل میں اگر گل میں بو نہ ہو

کیا فرق داغ و گل میں اگر گل میں بو نہ ہو شعر نمبر 1: کیا فرق داغ و گل میں کہ جس گل میں بو نہ ہو کس کام کا وہ دل ہے کہ جس دل میں تو نہ ہو مشکل الفاظ کے معنی: بو: خوشبو، مہک۔ داغ: دھبہ، نشان۔ تو: یہاں مراد اللہ