شکوہ از علامہ محمد اقبال

شکوہ از علامہ محمد اقبال شاعر مشرق ، حکیم الامت اور مفکر پاکستان سر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق نظم شکوہ کے تمام بند ۔۔۔۔۔۔۔ بند نمبر 1 :  شکوہ (1911) محمد اقبال کیوں زیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوں فکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رھوں نالے بُلبُل کے سُنوں اور

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے یہ شعر غلط العام ہے اسے عام طور پر اقبال سے منسوب کیا جاتا ہے حالانکہ یہ شعر اقبال کا نہیں بلکہ مولانا محمد علی جوہر کا ہے ۔ قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد مولانا محمد علی جوہر

ن م راشد

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا شعر نمبر 1:  کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا مفہوم :  کاش میں نے مشکلات کا سامنا کیا ہوتا، کاش طوفان میں اپنی کشتی کو لے جاتا۔ اگر ڈوب بھی جاتا تو لہریں مجھے واپس باہر پھینک دیتیں۔ تشریح

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے از غالب

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے مرزا غالب کی غزل کی تشریح شعر نمبر 1 :  بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے تشریح : غالب کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی جدت پسندی ہے۔ بیان اور اسلوب کی جدت اُن کی پہچان ہے۔ انہوں

نظم آمد صبح از میر انیس

نظم آمد صبح از میر انیس مرثیہ : مرثیہ عربی زبان کا لفظ ہے جو لفظ رثی سے مشتق ہے۔ رثی کے معانی ہیں مردے پر رونا ، آہ و زاری کرنا۔“ یہ صنف عربی شاعری میں رائج تھی۔ عزیزوں اور بزرگ ہستیوں کی موت پر رنج والم کے جذبات سے لبریز جو اشعار کہے

خطاب بہ جوانان اسلام از علامہ محمد اقبال

خطاب بہ جوانان اسلام از علامہ محمد اقبال فیڈرل اور پنجاب بورڈ جماعت دہم کی نظم ” خطاب بہ جوانان اسلام” از علامہ محمد اقبال کے تمام اشعار کی تشریح شعر نمبر 1 : کبھی اے نوجواں مسلم ! تدبر بھی کیا تو نے وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا

رسول مجتبیٰ کہیے محمد مصطفیٰ کہیے

رسول مجتبیٰ کہیے محمد مصطفیٰ کہیے نظم نعت از ماہر القادری تمام اشعار کی تشریح شعر نمبر 1 :  رسول مجتبی کہیے ، محمد مصطفیٰ کہیے خُدا کے بعد بس وہ ہیں، پھر اس کے بعد کیا کہیے  تشریح : اس شعر میں شاعر نے محبت و عظمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی

بازیچہ اطفال ہے

دوسرا کون ہے ؟ جہاں تو ہے حمد از امیر مینائی شعر نمبر 1 :  دوسرا کون ہے ؟ جہاں تو ہے کون جانے تجھے ؟ کہاں تو ہے تشریح: یہ شعر امیر مینائی کی حمدیہ نظم سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی عظمت کو بیان

اردلی کون ہوتا ؟

اردلی کسے کہتے وضاحت کریں ؟ بیٹ مین یا اردلی کی اصطلاح کا مطلب زیادہ تر اردو اور انگریزی لغات میں یوں نکلا ہے۔’برطانوی افسر کی خدمت گزاری اور حکم بجا لانے پر معمور فوجی‘۔ گویا یہ طے ہو گیا کہ اردلی رکھنے کی روایت برطانوی اور نوآبادیاتی ہے۔ برطانوی افسر کا اردلی پر کتنا

محنت کی برکات از الطاف حسین حالی

محنت کی برکات از الطاف حسین حالی بند نمبر 1   :  مشقت کی ذلت جنھوں نے اُٹھائی جہاں میں ملی اُن کو آخر بڑائی کسی نے بغیر اس کے ہر گزنہ پائی فضیلت ، نہ عزت ، نہ فرماں روائی نہال اس گلستاں میں جتنے بڑھے ہیں ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھے ہیں نظم