شکوہ بند نمبر 20

شکوہ بند نمبر 20 دردِ لیلٰی بھی وُہی ، قیس کا پہلو بھی وُہی نجد کے دشت و جبل میں رمِ آہو بھی وُہی عِشق کا دِل بھی وُہی ، حُسن کا جادُو بھی وُہی اُمتِ احمدِ مرسل بھی وُہی ، تُو بھی وُہی پھر یہ آزُردگئ غیرِ سبب کیا معنی؟ اپنے شیداؤں پہ یہ

شکوہ بند نمبر 19

شکوہ بند نمبر 19 تیری محفل بھی گئی ، چاہنے والے بھی گئے شب کی آہیں بھی گئیں ، صُبح کے نالے بھی گئے دِل تجھے دے بھی گئے ، اپنا صلہ لے بھی گئے آکے بیٹھے بھی نہ تھے اور نکالے بھی گئے آئے عُشاق ، گئے وعدہء فردا لے کر اَب اُنہیں ڈُھونڈ

شکوہ بند نمبر 18

شکوہ بند نمبر 18 بنی اغیار کی اب چاہنے والی دنیا رہ گئی اپنے لئے ایک خیالی دُنیا ہم تو رُخصت ہوئے اَوروں نے سنبھالی دُنیا پھر نہ کہنا ہُوئی توحید سے خالی دُنیا ہم تو جیتے ہیں کہ دُنیا میں ترا نام رہے کہیں ممکن ہے کہ ساقی نہ رہے جام رہے

بند نمبر 17

بند نمبر 17 کیوں مُسلمانوں میں ہے دولتِ دُنیا نایاب ؟ تیری قُدرت تو ہے وہ جس کی نہ حَد ہے نہ حِساب تُو جو چاہے تو اُٹھے سینہء صحراء سے حباب رہروء دشت ہو سیلی زدہء موجِ سَراب طعنِ اغیار ہے ، رُسوائی ہے ، ناداری ہے کیا ترے نام پہ مرنے کا عوض

شکوہ بند نمبر 16

شکوہ بند نمبر 16 یہ شکایت نہیں ، ہیں اُن کے خزانے معمور نہیں محفل میں جنہیں بات بھی کرنے کا شعور قہر تو یہ ہے کہ کافر کو ملیں حُور و قصور اور بیچارے مُسلماں کو فقط وعدہء حُور اب وہ الطاف نہیں ، ہم پہ عنایات نہیں بات یہ کیا ہے کہ پہلی

شکوہ بند نمبر 15

شکوہ بند نمبر 15 بُت صنم خانوں میں کہتے ہیں مُسلماں گئے ہے خُوشی اُن کو کہ کعبے کے مسلمان گئے منزلِ دَہر سے کعبے کے حدی خوان گئے اپنی بغلوں میں دبائے ہُوئے قُرآن گئے خندہ زن کُفر ہے ، احساس تجھے ہے کہ نہیں ؟ اپنی توحید کا کُچھ پاس تجھے ہے کہ

شکوہ بند نمبر 14

شکوہ بند نمبر 14 اُمتیں اور بھی ہیں ، اُن میں گنہگار بھی ہیں عجز والے بھی ہیں ، مستِ مئے پندار بھی ہیں ان میں کاہل بھی ہیں ، غافل بھی ہیں ، ہُشیار بھی ہیں سینکڑوں ہیں کہ ترے نام سے بیزار بھی ہیں رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر برق گِرتی

شکوہ بند نمبر 13

شکوہ بند نمبر 13 صفحہ ء دہر سے باطل کو مٹایا ہم نے نوعِ انساں کو غلامی سے چُھڑایا ہم نے ترے کعبے کو جبینوں سے بسایا ہم نے ترے قرآن کو سینوں سے لگایا ہم نے پِھر بھی ہم سے یہ گِلہ ہے کہ وفادار نہیں ہم وفادار نہیں ، تُو بھی تو دلدار

شکوہ بند نمبر 12

شکوہ بند نمبر 12 محفلِ کون و مکاں میں سحروشام پھرے مئے توحید کو لے کر صفتِ جام پھرے کوہ میں ، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے اور معلوم ہے تجھ کو کبھی ناکام پھرے؟ دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے! بحرِ ظُلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے

شکوہ بند نمبر 11

 شکوہ بند نمبر 11 آگیا عین لڑائی میں اگر وقتِ نماز قبلہ رُو ہو کے زمیں بوس ہوئی قومِ حجاز ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز بندہ و صاحب و مُحتاج و غنی ایک ہوئے! تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے