خوش آمدید

میں اپنی اس ویب سائٹ پر آنے پر آپ سب کو خوش آمدید کہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کو میرا کام پسند آئے گا ۔ میں پاکستان کے تمام بورڈز کی اردو کی نصابی کتب بالخصوص جماعت نہم سے بارہویں تک پر کام کر رہا ہوں ۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو کسی خاص موضوع پر مواد درکار ہے تو آپ مجھ سے رابطہ کر کے بتا سکتے ہیں۔ سر ریاض شامی شکریہ.

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد شعر نمبر 1 دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد مشکل الفاظ کے معانی: ستم: ظلم، ناانصافی، سختیاں۔ وفا: نبھانا، پیار میں ثابت قدمی۔ سوا: علاوہ، بغیر۔ مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ میں محبت

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد میں شکوہ بلب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یاد شاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نے اب

سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں

سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں شعر نمبر 1 سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسہ بھی نہیں مشکل الفاظ کے معانی: سودا: جنون، عشق کی دیوانگی (سر کی کیفیت)۔ تمنا: خواہش، آرزو (دل کی کیفیت)۔ ترکِ محبت: محبت چھوڑ دینا،

سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں

سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں لیکن اِس ترکِ محبّت کا بھروسہ بھی نہیں بُھول جاتے ہیں کسی کو مگر ایسا بھی نہیں یاد کرتے ہیں کسی کو، مگر اِتنا بھی نہیں تم نے پُوچھا بھی نہیں، میں نے

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا شعر نمبر 1 اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا مشکل الفاظ کے معانی: اثر: تاثر، اثر پذیری رنج: غم، دکھ راحت فزا: سکون یا خوشی بڑھانے والا مفہوم: میرے دکھ اور آہوں کا محبوب پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور میرا یہ غم میرے

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا بے وفا کہنے کی شکایت ہے تو بھی وعدہ وفا نہیں ہوتا ذکر اغیار سے ہوا معلوم حرف ناصح برا نہیں ہوتا کس کو ہے ذوق تلخ کامی لیک جنگ بن کچھ مزا نہیں ہوتا تم ہمارے کسی

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں شعر نمبر 1 دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں مشکل الفاظ کے معنی: دائم: ہمیشہ، مسلسل۔ در: دروازہ، چوکھٹ۔ خاک ایسی زندگی پہ: ایسی زندگی پر لعنت یا افسوس۔ مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دل انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے لوح جہاں پہ حرف

دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا

دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا شعر نمبر 1: دوست غم خواری میں میری سعئی فرمائیں گے کیا زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا مشکل الفاظ کے معانی: غم خواری: ہمدردی کرنا، دکھ بانٹنا۔ سعئی: کوشش، مدد۔ بھرنے تلک: مندمل ہونے تک، ٹھیک ہونے تک۔ مفہوم: میرے دوست

دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا

دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش