سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا خواجہ حیدر علی آتش اردو زبان کے ان شعراء میں سے ہیں جن کے کلام میں وقار، خودداری اور صوفیانہ رنگ نمایاں ہے۔ ان کی یہ غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل کی عکاس ہے، جس میں محبوب کے حسن، دنیا کی بے ثباتی اور صوفیانہ

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے بخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف قاروں نے

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم  حسرت موہانی کی خوبصورت غزل کی مکمل تشریح، معانی اور مفہوم۔ حسرت موہانی اردو شاعری میں “رئیس المتغزلین” کے لقب سے جانے جاتے ہیں، جن کی شاعری میں عشق کی پاکیزگی اور سیاست کی بے باکی دونوں نظر آتی ہیں۔ شعر نمبر 1 اپنا سا شوق

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم گھبرا گئے ہیں بے دلئ ہم رہاں سے ہم کچھ ایسی دور بھی تو نہیں منزل مراد لیکن یہ جب کہ چھوٹ چلیں کارواں سے ہم اے یاد یار دیکھ کہ باوصف رنج ہجر مسرور ہیں تری

خطاب بہ جوانان اسلام

خطاب بہ جوانان اسلام کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے علامہ اقبال کی یہ نظم ان کے مجموعہ کلام ’بانگِ درا‘ سے ماخوذ ہے، جس میں انہوں نے مسلمان نوجوانوں کو ان کے شاندار ماضی کی یاد دلا کر حال کی پستی سے نکلنے کا درس دیا ہے۔ شعر نمبر 1 کبھي

کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے

کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے وہ کيا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت ميں کچل ڈالا تھا جس نے پائوں ميں تاج سر دارا تمدن آفريں خلاق آئين جہاں داري

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا شعر نمبر 1 تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا مشکل الفاظ کے معانی: مستعار: ادھار لیا ہوا، عارضی۔ خورشید: سورج۔ ذرہ ظہور: معمولی سی جھلک یا نمائش۔ مفہوم: کائنات میں جہاں کہیں بھی روشنی

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا پیدا ہر ایک نالے سے شور نشور تھا پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں معلوم اب ہوا

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری اردو شاعری کے خداے سخن، میر تقی میر کی یہ غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل، سوز و گداز اور سادگی و پرکاری کا بہترین نمونہ ہے۔ ذیل میں اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح پیش ہے۔ شعر نمبر 1 رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری نہ اس دیار میں سمجھا کوئی زباں میری برنگ صوت جرس تجھ سے دور ہوں تنہا خبر نہیں ہے تجھے آہ کارواں میری ترے نہ آج کے آنے میں صبح کے مجھ پاس ہزار جائے گئی طبع بدگماں میری وہ نقش