سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں منیر نیازی کی یہ غزل ان کے مخصوص لب و لہجے، خوف، حیرت اور ماضی کی بازگشت کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ آپ کی فرمائش کے مطابق اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح اور معانی درج ذیل ہیں۔ شعر نمبر 1 سن بستیوں کا

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں

سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں سن بستیوں کا حال جو حد سے گزر گئیں ان امتوں کا ذکر جو رستوں میں مر گئیں کر یاد ان دنوں کو کہ آباد تھیں یہاں گلیاں جو خاک و خون کی دہشت سے بھر گئیں صرصر کی زد میں آئے ہوئے بام و در

اب دل ہے مقام بے کسی کا

اب دل ہے مقام بے کسی کا داغ دہلوی کی یہ غزل سہلِ ممتنع (سادہ مگر مشکل) کا بہترین نمونہ ہے۔ داغ اپنی صفائیِ زبان اور محاورہ بندی کے لیے مشہور ہیں، اور اس غزل میں انہوں نے عشق کے نازک جذبات کو بہت ہی دلنشین انداز میں بیان کیا ہے۔ ذیل میں اس غزل

اب دل ہے مقام بے کسی کا

نہ اب دل ہے مقام بے کسی کا اب دل ہے مقام بے کسی کا یوں گھر نہ تباہ ہو کسی کا کس کس کو مزا ہے عاشقی کا تم نام تو لُو بھلا کسی کا پھر دیکھتے عیش آدمی کا بنتا جو فلک مری خوشی کا گلشن میں ترے لبوں نے گویا رس چوس

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں مرزا غالب کی یہ غزل اردو ادب کے شاہکار پاروں میں سے ایک ہے۔ اس میں انسانی جذبات، فلسفہِ زندگی اور عشق کے نازک پہلوؤں کو جس مہارت سے بیان کیا گیا ہے، وہ صرف غالب کا ہی خاصہ ہے۔ ذیل

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے مرزا اسد اللہ خان غالب کی یہ غزل اردو ادب کا شاہکار ہے جس میں انسانی جذبات، فلسفہ اور شوخی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ذیل میں اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح پیش ہے۔ شعر نمبر 1 دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم خواجہ حیدر علی آتش دبستانِ لکھنؤ کے سب سے معتبر اور صاحبِ طرز شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں لکھنوی تہذیب کا رچاؤ، زبان کی صفائی اور تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔ زیرِ نظر غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل کی عکاس ہے جس میں وہ دنیا

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم نہال کس کو کرے باغباں نہیں معلوم مرے صنم کا کسی کو مکاں نہیں معلوم خدا کا نام سنا ہے نشاں نہیں معلوم اخیر ہو گئے غفلت میں دن جوانی کے بہار عمر ہوئی کب خزاں نہیں معلوم یہ