خوش آمدید

میں اپنی اس ویب سائٹ پر آنے پر آپ سب کو خوش آمدید کہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کو میرا کام پسند آئے گا ۔ میں پاکستان کے تمام بورڈز کی اردو کی نصابی کتب بالخصوص جماعت نہم سے بارہویں تک پر کام کر رہا ہوں ۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو کسی خاص موضوع پر مواد درکار ہے تو آپ مجھ سے رابطہ کر کے بتا سکتے ہیں۔ سر ریاض شامی شکریہ.

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(تشریح)

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(تشریح) شعر نمبر 1: نہ گیا کوئی عدم کو دلِ شاداں لے کر کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر مشکل الفاظ کے معانی: عدم: موت، وہ جگہ جہاں کچھ نہ ہو، آخرت۔ دلِ شاداں: خوش دل، مسرور دل۔ حسرت و ارماں: ادھوری خواہشات، نا

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(غزل)

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر یاں سے کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر کیا خطا مجھ سے ہوئ رات کہ اس کافر کا میں نے خود چھوڑ دیا ہاتھ میں داماں لے کر باغ وہ دست جنوں تھا کبھی

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا(تشریح)

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا شعر نمبر 1: دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا  غم دل سے اور دل سے میرے غم قریں رہا مشکل الفاظ کے معنی: اندوہ گیں: غم زدہ، دکھی۔ ہمدم: دوست، ساتھی۔ کہیں: یہاں مراد پاس یا ساتھ ہے۔ مفہوم: جب تک میں اس

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا ( غزل)

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا  غم دل سے اور دل سے میرے غم قریں رہا رونے سے کام بس کہ شب اے ہم نشیں رہا  آنکھوں پہ کھینچتا میں، سرِ آستیں رہا نازُک مزاج تھا میں بہت اس چمن کے بیچ  جب

کیا فرق داغ و گل میں اگر گل میں بو نہ ہو

کیا فرق داغ و گل میں اگر گل میں بو نہ ہو شعر نمبر 1: کیا فرق داغ و گل میں کہ جس گل میں بو نہ ہو کس کام کا وہ دل ہے کہ جس دل میں تو نہ ہو مشکل الفاظ کے معنی: بو: خوشبو، مہک۔ داغ: دھبہ، نشان۔ تو: یہاں مراد اللہ

کام مردوں کے جو ہیں

کام مردوں کے جو ہیں شعر نمبر 1: کام مردوں کے جو ہیں سو وہی کر جاتے ہیں جان سے اپنی جو کوئی کے گزر جاتے ہیں مشکل الفاظ: مردوں: یہاں مرد سے مراد بہادر، جواں ہمت اور صاحبِ کردار لوگ ہیں۔ گزر جانا: جان قربان کر دینا، فدا ہو جانا۔ مفہوم: حقیقی جرات مند

کام مردوں کے جو ہیں

کام مردوں کے جو ہیں سو وہی کر جاتے ہیں جان سے اپنے جو کوئی کہ گزر جاتے ہیں موت کیا آکے فقیروں سے تجھے لینا ہے مرنے سے آگے ہی یہ لوگ تو مر جاتے ہیں دید وادید جو ہو جائے غنیمت سمجھو جوں شرر ورنہ ہم اے اہل نظر جاتے ہیں آنکھیں اس

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے شعر نمبر 1: یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے یہ دل، دلِ نادان سہی، خوددار بہت ہے مفہوم: اگرچہ اپنی بات کہنے کے بہت سے طریقے اور انداز موجود ہیں، لیکن میرا دل اگرچہ نادان ہے مگر اپنی غیرت اور خودداری کی وجہ سے کسی کے سامنے

وغیرہ از انور مسعود

وغیرہ از انور مسعود شعر نمبر 1: ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ مفہوم: محبوب کے ہونٹوں پر سجی مسکراہٹ اور اس کے دیگر ناز و انداز پر شاعر اپنی جان و دل نثار کرنے کا اظہار کر رہا ہے۔ تشریح: اس شعر میں انور