خوش آمدید

میں اپنی اس ویب سائٹ پر آنے پر آپ سب کو خوش آمدید کہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کو میرا کام پسند آئے گا ۔ میں پاکستان کے تمام بورڈز کی اردو کی نصابی کتب بالخصوص جماعت نہم سے بارہویں تک پر کام کر رہا ہوں ۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو کسی خاص موضوع پر مواد درکار ہے تو آپ مجھ سے رابطہ کر کے بتا سکتے ہیں۔ سر ریاض شامی شکریہ.

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے شعر نمبر 1: نہ تخت و تاج میں، نے لشکر و سپاہ میں ہے جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے مشکل الفاظ کے معانی: تخت و تاج: بادشاہت، سیاسی اقتدار۔ سپاہ: فوج، عسکری قوت۔ مردِ قلندر: درویش، وہ انسان جو دنیاوی حرص

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے(غزل)

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خلیل یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لا الہ میں ہے وہی جہاں ہے ترا جس کو

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی( غزل)

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی عطارؔ ہو رومیؔ ہو رازیؔ ہو غزالیؔ ہو کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحرگاہی نومید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی اے طائر لاہوتی

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی(تشریح)

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی شعر نمبر 1 جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی کھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی مشکل الفاظ کے معانی: آدابِ خود آگاہی: اپنی ذات کو پہچاننے کے طریقے، معرفتِ نفس۔ اسرارِ شہنشاہی: بادشاہی کے راز، حکمرانی کے گر۔ عشق: یہاں عشق سے مراد اللہ اور اس کے

جنگ موتہ ، اسباب ، واقعات اور نتائج

جنگ موتہ ، اسباب ، واقعات اور نتائج حضرت خالد بن ولید رضی اللّہ عنہ اس قدر اس جوش سے لڑے کے آپ کے ہاتھوں نو تلواریں ٹوٹیں کیا شیر تھے وہ لوگ آئیں پڑھیں ایک حوبصورت قصہ۔ آج نگاہِ فلک اِک عجب منظر دیکھ رہی تھی ، دو لاکھ کے ظالم اور متکبردشمن کے

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو( تشریح)

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو شعر نمبر 1 (مطلع) کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو مشکل الفاظ: نوا سنجِ فغاں (آہ و زاری کرنے والا)، زباں ہونا (بولنے کی طاقت

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو(غزل)

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا( تفصیلی تشریح)

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا(تفصیلی تشریح) شعر نمبر 1 (مطلع) بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا مشکل الفاظ: بس کہ: چونکہ۔ دشوار: کٹھن۔ میسر: دستیاب۔ انساں ہونا: اعلیٰ اخلاقی و انسانی اقدار کا حامل ہونا۔ مفہوم: دنیا میں کسی بھی کام کا پایۂ

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا( تشریح)

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا شعر نمبر 1 (مطلع) بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا مشکل الفاظ: بس کہ (چونکہ)، دشوار (مشکل)، میسر (دستیاب/ممکن)، انساں ہونا (اخلاق و آدمیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہونا)۔ مفہوم: چونکہ دنیا میں کسی بھی کام کا

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا(غزل)

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا گریہ چاہے ہے خرابی مرے کاشانے کی در و دیوار سے ٹپکے ہے بیاباں ہونا وائے دیوانگی شوق کہ ہر دم مجھ کو آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا جلوہ