داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 25 تا 32)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 25 تا 32) شعر نمبر 25 سبزہِ کوہ پر سایہِ ابرِ تر گرے مینہ تو موتی جھڑیں فرش پر مفہوم: پہاڑ کے سبزے پر نمناک بادلوں کا سایہ ہے اور جب بارش برستی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے فرش پر موتی جھڑ رہے ہوں۔

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن( شعر 17 تا 24)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 17 تا 24) شعر نمبر 17 عجب چاندنی میں گلوں کی بہار ہر ایک گل سفیدی سے ماہتاب دار مفہوم: چاندنی رات میں پھولوں پر عجیب رونق برسی ہے اور ہر پھول چاندنی کی سفیدی جذب کر کے خود ایک چھوٹا سا چاند بن گیا

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن( شعر 9 تا 16)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 9 تا 16) شعر نمبر 9 بنی سنگِ مرمر سے چوپڑ کی نہر گئی چار سو اس کے پانی کی لہر مفہوم: باغ میں سنگِ مرمر سے بنی ہوئی چوپڑ کی شکل کی نہریں موجود ہیں جن کی لہریں ہر سمت (چار سو) پھیل کر

( شعر 1 تا 8 )داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن شعر نمبر 1 : مئے ارغوانی پلا ساقیا کہ تعمیر کو باغ کی دل چلا تشریح: اس شعر میں میر حسن نے داستان کا آغاز روایتی مثنوی نگاروں کے انداز میں کیا ہے۔ وہ ساقی سے مخاطب ہو کر “مئے ارغوانی” یعنی سرخ و جامنی شراب کا

نئی نسل کا نوحہ (امجد اسلام امجد)

نئی نسل کا نوحہ (امجد اسلام امجد) بند نمبر 1 میں سوچتا ہوں لکھا ہے جو کچھ، پڑھا ہے جو کچھ وہ کس لیے تھا؟ کہاں سے پوچھوں، کسے بتاؤں؟ تشریح: شاعر امجد اسلام امجد نظم کی ابتدا ایک استفہامیہ (سوالیہ) انداز سے کرتے ہیں۔ وہ نئی نسل کے نمائندے کے طور پر خود کلامی

انسانِ کامل (ﷺ) کی برکات( شعر 21 تا 36)

انسانِ کامل (ﷺ) کی برکات( شعر 21 تا 36) نظم: انسانِ کامل ﷺ کی برکات (حفیظ جالندھری) اشعار 21 تا 36: تفصیلی و علمی تشریح شعر نمبر 21 یہاں سرمایہ و محنت سے غائب تھی حدِ فاصل کہ جس کا نام سرمایہ ہے، محنت ہی کو تھا حاصل مفہوم: اسلامی معاشرے میں دولت اور مزدوری

انسانِ کامل (ﷺ) کی برکات( شعر 1 تا 20)

انسانِ کامل (ﷺ) کی برکات پہلا شعر یہاں روح الامیں، خیر الانام (ﷺ) کے در پہ حاضر تھا یہاں رحمت سرگرمِ عمل تھی، اللہ ناظر  تھا مشکل الفاظ کے معانی روح الامیں: حضرت جبرائیل علیہ السلام، وحی لانے والے فرشتہ خیر الانام (ﷺ): تمام انسانوں میں سب سے بہتر، نبی کریم ﷺ در پہ حاضر

نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن

نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن بند نمبر 1 :  نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے نذر چرا کے چلے، جسم و جاں بچا کے چلے ہے اہلِ دل کے لیے اب یہ نظمِ

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں

نظم: مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں شاعر: سید ضمیر جعفری شعر نمبر 1 :  مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں تشریح: اس شعر میں سید ضمیر جعفری، جو کہ اردو کے ایک مانے

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں

مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں   مجھ سے مت کر یار کچھ گفتار، میں روزے سے ہوں ہو نہ جائے تجھ سے بھی تکرار، میں روزے سے ہوں ہر اک شے سے کرب کا اظہار، میں روزے سے ہوں دو کسی اخبار کو یہ تار، میں روزے سے ہوں