شکوہ بند نمبر 7
شکوہ بند نمبر 7 ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مُصیبت کے لئے اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لئے تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لئے سر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لئے؟ قوم اپنی جو زرومال جہاں پر مرتی بُت فروشی کے عوض بُت شکنی
شکوہ بند نمبر 7 ہم جو جیتے تھے تو جنگوں کی مُصیبت کے لئے اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کے لئے تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لئے سر بکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کے لئے؟ قوم اپنی جو زرومال جہاں پر مرتی بُت فروشی کے عوض بُت شکنی
شکوہ بند نمبر 6 تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں خُشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میں دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی
شکوہ بند نمبر 5 بَس رہے تھے یہیں سلجوق بھی ، تُورانی بھی اہلِ چیں چین میں ، ایران میں ساسانی بھی اسی معمورے میں آباد تھے یُونانی بھی اسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھی پر ترے نام پہ تلوار اُٹھائی کس نے؟ بات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نے؟
شکوہ بند نمبر 4 ہم سے پہلے تھا عجب تیرے جہاں کا منظر کہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر خُوگرِ پیکرِ محسوس تھی انساں کی نظر مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر؟ تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟ قوتِ بازوئے مُسلم نے کیا کام ترا
شکوہ بند نمبر 3 تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذات قدیم پُھول تھا زیب چمن ، پر نہ پریشاں تھی شمیم شرطِ انصاف ہے ، اے صاحبِ الطافِ عمیم بُوئے گُل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم ہم کو جمیعتِ خاطر یہ پریشانی تھی ورنہ امت تری محبوب کی دیوانی تھی
شکوہ بند نمبر 2 ہے بجا شیوہ تسلیم میں مشہور ہیں ہم قصہء درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم سازِ خاموش ہیں ، فریاد سے معمور ہیں ہم نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم اے خدا ! شکوہ ء اربابِ وفا بھی سن لے خُوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ
شکوہ بند نمبر 1 کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہُوں؟ فکرِ فردا نہ کروں ، محوِ غمِ دوش رہوں نالے بلبل کے سنوں ، اور ہمہ تن گوش رہوں ہمنوا ! میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں جُرات آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ
شکوہ از علامہ محمد اقبال شاعر مشرق ، حکیم الامت اور مفکر پاکستان سر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق نظم شکوہ کے تمام بند ۔۔۔۔۔۔۔ بند نمبر 1 : شکوہ (1911) محمد اقبال کیوں زیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوں فکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رھوں نالے بُلبُل کے سُنوں اور
قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے یہ شعر غلط العام ہے اسے عام طور پر اقبال سے منسوب کیا جاتا ہے حالانکہ یہ شعر اقبال کا نہیں بلکہ مولانا محمد علی جوہر کا ہے ۔ قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد مولانا محمد علی جوہر
کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا شعر نمبر 1: کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا مفہوم : کاش میں نے مشکلات کا سامنا کیا ہوتا، کاش طوفان میں اپنی کشتی کو لے جاتا۔ اگر ڈوب بھی جاتا تو لہریں مجھے واپس باہر پھینک دیتیں۔ تشریح