اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم  حسرت موہانی کی خوبصورت غزل کی مکمل تشریح، معانی اور مفہوم۔ حسرت موہانی اردو شاعری میں “رئیس المتغزلین” کے لقب سے جانے جاتے ہیں، جن کی شاعری میں عشق کی پاکیزگی اور سیاست کی بے باکی دونوں نظر آتی ہیں۔ شعر نمبر 1 اپنا سا شوق

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم

اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم اپنا سا شوق اوروں میں لائیں کہاں سے ہم گھبرا گئے ہیں بے دلئ ہم رہاں سے ہم کچھ ایسی دور بھی تو نہیں منزل مراد لیکن یہ جب کہ چھوٹ چلیں کارواں سے ہم اے یاد یار دیکھ کہ باوصف رنج ہجر مسرور ہیں تری

خطاب بہ جوانان اسلام

خطاب بہ جوانان اسلام کبھی اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے علامہ اقبال کی یہ نظم ان کے مجموعہ کلام ’بانگِ درا‘ سے ماخوذ ہے، جس میں انہوں نے مسلمان نوجوانوں کو ان کے شاندار ماضی کی یاد دلا کر حال کی پستی سے نکلنے کا درس دیا ہے۔ شعر نمبر 1 کبھي

کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے

کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے کبھي اے نوجواں مسلم! تدبر بھي کيا تو نے وہ کيا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا تارا تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت ميں کچل ڈالا تھا جس نے پائوں ميں تاج سر دارا تمدن آفريں خلاق آئين جہاں داري

کائناتی اسرار کا مرکز: بلیک ہول — ایک ہمہ جہت سائنسی اور فکری مطالعہ

کائناتی اسرار کا مرکز: بلیک ہول : ایک ہمہ جہت سائنسی اور فکری مطالعہ پیش لفظ: عقلِ انسانی اور وسعتِ کائنات کائنات ہمیشہ سے انسان کے لیے ایک سربستہ راز رہی ہے۔ قدیم دور میں ستاروں کی گردش کو دیکھ کر تقدیر کا حال بتانے والا انسان آج علمِ طبیعیات (Physics) کے ذریعے ان ستاروں

صدقہ فطر (فطرانہ): تعریف، احکام اور شرعی حیثیت

صدقہ فطر (فطرانہ): تعریف، احکام اور شرعی حیثیت صدقہ فطر (فطرانہ): تعریف، احکام اور شرعی حیثیت رمضان المبارک کے اختتام پر اللہ تعالیٰ نے صاحبِ استطاعت مسلمانوں پر ایک مالی عبادت لازم کی ہے جسے صدقہ فطر یا فطرانہ کہا جاتا ہے۔ یہ جہاں غریبوں کی خوشیوں کا وسیلہ ہے، وہیں روزے دار کے روزوں

بانو قدسیہ کے شاہکار ناول ‘راجہ گدھ’ کا فکری و فنی تجزیہ

بانو قدسیہ کے شاہکار ناول ‘راجہ گدھ’ کا فکری و فنی تجزیہ بانو قدسیہ کا ناول ’راجہ گدھ‘ اردو ادب کے ان گنے چنے ناولوں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے فکر و خیال کی دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا۔ یہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ انسانی نفسیات، عمرانیات اور مابعد الطبیعیات (Metaphysics) کا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا شعر نمبر 1 تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا مشکل الفاظ کے معانی: مستعار: ادھار لیا ہوا، عارضی۔ خورشید: سورج۔ ذرہ ظہور: معمولی سی جھلک یا نمائش۔ مفہوم: کائنات میں جہاں کہیں بھی روشنی

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا پیدا ہر ایک نالے سے شور نشور تھا پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں معلوم اب ہوا

چہار دیواری سے عالمی افق تک: اساتذہ کیلئے ڈیجیٹل ظہور کا مکمل لائحہ عمل

چہار دیواری سے عالمی افق تک: اساتذہ کیلئے ڈیجیٹل ظہور کا مکمل لائحہ عمل   تحریر: ریاض شامی کائنات کا پہلا لفظ “اقراء” (پڑھ) تھا، اور اس پیغام کو انسانیت کے رگ و پے میں اتارنے والا “استاد” کہلایا۔ استاد محض ایک پیشہ نہیں، ایک روشنی ہے، ایک خوشبو ہے جو پھیلنے کیلئے بے چین