دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں مرزا غالب کی یہ غزل اردو ادب کے شاہکار پاروں میں سے ایک ہے۔ اس میں انسانی جذبات، فلسفہِ زندگی اور عشق کے نازک پہلوؤں کو جس مہارت سے بیان کیا گیا ہے، وہ صرف غالب کا ہی خاصہ ہے۔ ذیل

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں دیر نہیں حرم نہیں در نہیں آستاں نہیں بیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم غیر ہمیں اٹھائے کیوں

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے مرزا اسد اللہ خان غالب کی یہ غزل اردو ادب کا شاہکار ہے جس میں انسانی جذبات، فلسفہ اور شوخی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ذیل میں اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح پیش ہے۔ شعر نمبر 1 دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے

دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے آخر اس درد کی دوا کیا ہے ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے

خلافت، ملوکیت اور جمہوریت کیا ہیں؟ مکمل تعارف، تاریخ، تقابلی جائزہ اور موجودہ دنیا میں ان کا نظام

خلافت، ملوکیت اور جمہوریت کیا ہیں؟ مکمل تعارف، تاریخ، تقابلی جائزہ اور موجودہ دنیا میں ان کا نظام خلافت، ملوکیت اور جمہوریت: تعارف، تاریخ اور تقابلی جائزہ انسانی تاریخ میں حکومت کے مختلف نظام رائج رہے ہیں، لیکن تین نظام ایسے ہیں جن پر سب سے زیادہ بحث ہوتی ہے: خلافت، ملوکیت (بادشاہت) اور جمہوریت۔

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم خواجہ حیدر علی آتش دبستانِ لکھنؤ کے سب سے معتبر اور صاحبِ طرز شاعر ہیں۔ ان کی شاعری میں لکھنوی تہذیب کا رچاؤ، زبان کی صفائی اور تصوف کا رنگ نمایاں ہے۔ زیرِ نظر غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل کی عکاس ہے جس میں وہ دنیا

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم

چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم چمن میں رہنے دے کون آشیاں نہیں معلوم نہال کس کو کرے باغباں نہیں معلوم مرے صنم کا کسی کو مکاں نہیں معلوم خدا کا نام سنا ہے نشاں نہیں معلوم اخیر ہو گئے غفلت میں دن جوانی کے بہار عمر ہوئی کب خزاں نہیں معلوم یہ

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا خواجہ حیدر علی آتش اردو زبان کے ان شعراء میں سے ہیں جن کے کلام میں وقار، خودداری اور صوفیانہ رنگ نمایاں ہے۔ ان کی یہ غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل کی عکاس ہے، جس میں محبوب کے حسن، دنیا کی بے ثباتی اور صوفیانہ

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا سن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا کیا کیا الجھتا ہے تری زلفوں کے تار سے بخیہ طلب ہے سینۂ صد چاک شانہ کیا زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف قاروں نے

با نشئه درویشی – علامہ اقبال کی فکرِ انقلاب کا شاہکار

با نشئه درویشی : علامہ اقبال کی فکرِ انقلاب کا شاہکار با نشئه درویشی – علامہ اقبال کی فکرِ انقلاب کا شاہکار (مکمل تعارف، لفظی معنی، ترجمہ اور فکری و فنی تجزیہ) نظم کا تعارف یہ فارسی نظم عظیم مفکرِ اسلام علامہ محمد اقبال کی شہرۂ آفاق تصنیف زبورِ عجم سے ماخوذ ہے۔ “زبورِ عجم”