مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا
مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا
حقا! کہ خداوند ہے تو لوح و قلم کا
اُس مسندِ عزت پہ کہ تو جلوہ نما ہے
کیا تاب؟ گزر ہووے تعقل کے قدم کا
بستے ہیں ترے سایہ میں سب شیخ و برہمن
آباد ہے تجھ سے ہی تو گھر دیر و حرم کا
ہے خوف اگر جی میں تو ہے تیرے غضب سے
اور دل میں بھروسا ہے تو ہے تیرے کرم کا
مانندِ حباب آنکھ تو اے درد! کھلی تھی
کھینچا نہ پر اس بحر میں عرصہ کوئی دم کا
Discover more from Shami Voice
Subscribe to get the latest posts sent to your email.