اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( تشریح)

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( تشریح) شعر نمبر 1: اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی مشکل الفاظ کے معنی: ہم سخن: ساتھ گفتگو کرنے والا، دوست۔ تقاضا: مطالبہ، ضرورت۔ ہونٹ سینا: خاموشی اختیار کرنا۔ مفہوم: اے میرے دوست! موجودہ

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( غزل)

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( غزل) اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی کن بے دلوں میں پھینک دیا حادثات نے آنکھوں میں جن کی نور نہ باتوں میں تازگی بول اے مرے دیار کی سوئی ہوئی زمیں میں جن

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی ( تشریح)

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی شعر نمبر 1: دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی مشکل الفاظ کے معنی: لہر: موج، خیال کا جوش، تڑپ۔ تازہ ہوا: خوشگوار جھونکا، یادِ یار۔ مفہوم: میرے دل میں اچانک ایک تڑپ اور یاد کی لہر پیدا ہوئی ہے،