نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(غزل)

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر یاں سے کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر کیا خطا مجھ سے ہوئ رات کہ اس کافر کا میں نے خود چھوڑ دیا ہاتھ میں داماں لے کر باغ وہ دست جنوں تھا کبھی

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا ( غزل)

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا  غم دل سے اور دل سے میرے غم قریں رہا رونے سے کام بس کہ شب اے ہم نشیں رہا  آنکھوں پہ کھینچتا میں، سرِ آستیں رہا نازُک مزاج تھا میں بہت اس چمن کے بیچ  جب