نظم ” شکست زنداں کا خواب “
آج کی اس پوسٹ میں ہم شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کی نظم ” شکست زنداں کا خواب ” پڑھیں گے ۔ کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں دیواروں کے نیچے آ آ کر یوں جمع ہوئے ہیں زندانی سینوں