مل کے بیٹھے نہیں خوابوں میں شراکت نہیں کی
آج کی اس پوسٹ میں ہم ظفر اقبال کی غزل ” مل کے بیٹھے نہیں خوابوں میں شراکت نہیں کی ” کی لغت ، مفہوم اور تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : مل کے بیٹھے نہیں خوابوں میں شراکت نہیں کی اور کیا رشتہ ہو تجھ سے جو محبت نہیں کی مشکل الفاظ