خوش آمدید

میں اپنی اس ویب سائٹ پر آنے پر آپ سب کو خوش آمدید کہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کو میرا کام پسند آئے گا ۔ میں پاکستان کے تمام بورڈز کی اردو کی نصابی کتب بالخصوص جماعت نہم سے بارہویں تک پر کام کر رہا ہوں ۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو کسی خاص موضوع پر مواد درکار ہے تو آپ مجھ سے رابطہ کر کے بتا سکتے ہیں۔ سر ریاض شامی شکریہ.

مناقبِ عمر بن عبدالعزیزؓ

آج کی اس پوسٹ میں ہم مناقب عمر بن عبد العزیز سبق کی تشریح ، سیاق و سباق ، حوالہ متن ، سوالات اور خلاصہ کے بارے میں پڑھیں گے ۔ مناقبِ عمر بن عبدالعزیزؓ سبق : مناقبِ عمر بن عبدالعزیزؓ مصنف : علامہ شبلی نعمانی ماخوذ از : مقالاتِ شبلی ، جلد چہارم حوالہ

بانگِ درا

آج کی اس پوسٹ میں ہم ” بانگِ درا” اقبال کی اردو شاعری پر مشتمل مجموعہ کے بارے میں پڑھیں گے ۔ اس کا تعارف ، وجہ تصنیف اور اس کے تمام حصوں کے بارے میں تفصیل سے پڑھیں گے ۔    تعارف : بانگِ درا علامہ اقبالؒ کا پہلا اردو شعری مجموعہ ہے جو

کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے

آج کی پوسٹ میں “کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے” نظم حمد کی تشریح مفہوم اور مشکل الفاظ کے معانی بیان کیے جائیں گے ۔ شعر نمبر 1 :  کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے دکھائی بھی جو نہ دے ، نظر بھی جو آ

سن تو سہی

یوں کہنے کو پیرایہ اظہار بہت ” یوں کہنے کو پیرا یہ اظہار بہت ہے” آج کی اس پوسٹ میں ہم  اس غزل کی تشریح ، مفہوم اور مشکل الفاظ کے معانی پیش کریں گے ۔ اس غزل کی شاعری زہرا نگاہ ہیں ۔ شعر نمبر 1 :  یوں کہنے کو پیرایہ اظہار بہت ہے

ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی

ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی آج کی اس پوسٹ میں ہم غزل ” ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی” کی تشریح و تفسیر پڑھیں گے ۔ اس غزل کے شاعر حسرت موہانی ہیں ۔ شعر نمبر 1 : ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی اک طرفہ تماشا ہے

آئینہ اپنی نظر سے نہ جدا ہونے دو

آئینہ اپنی نظر سے نہ جدا ہونے دو آج کی اس پوسٹ میں ہم داغ دہلوی کی غزل ” آئینہ اپنی نظر سے نہ جدا ہونے دو ” کی لغت ، مفہوم اور تشریح کے بارے میں پڑھیں گے ۔ شعر نمبر 1 : آئینہ اپنی نظر سے نہ جدا ہونے دو کوئی دم اور

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے آج کی اس پوسٹ میں ہم مرزا غالب کی غزل ٫٫ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ،، کی تشریح پڑھیں گے ۔ شعر نمبر 1 :  ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے میرے ارمان، لیکن پھر بھی

دائم پڑا ہُوا تیرے در پر نہیں ہوں میں

دائم پڑا ہُوا تیرے در پر نہیں ہوں میں آج کی اس پوسٹ میں ہم مرزا غالب کی غزل ” دائم پڑا ہُوا ہوں تیرے در پر نہیں ہوں میں” کی تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 :  دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں

ناگہ چمن میں جب وہ گل اندام آ گیا

ناگہ چمن وہ جب وہ گل اندام آ گیا آج کی اس پوسٹ کو شاعر  شیخ غلام ہمدانی مصحفی کی غزل ” ناگہ چمن میں جب وہ گل اندام آ گیا” کی تشریح پڑھیں گے ۔ شعر نمبر 1 :  نا گہ چمن میں جب وہ گل اندام آ گیا گل کو شکست رنگ کا