پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے
پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے آج کی اس پوسٹ میں ہم میزا خان دغ دہلوی کی غزل ” پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے ” جو کہ پنجاب بورڈ جماعت گیارہویں کے نصاب میں شامل ہے اس کی تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : پھر ے راہ سے وہ یہاں
میں اپنی اس ویب سائٹ پر آنے پر آپ سب کو خوش آمدید کہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کو میرا کام پسند آئے گا ۔ میں پاکستان کے تمام بورڈز کی اردو کی نصابی کتب بالخصوص جماعت نہم سے بارہویں تک پر کام کر رہا ہوں ۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو کسی خاص موضوع پر مواد درکار ہے تو آپ مجھ سے رابطہ کر کے بتا سکتے ہیں۔ سر ریاض شامی شکریہ.
پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے آج کی اس پوسٹ میں ہم میزا خان دغ دہلوی کی غزل ” پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے ” جو کہ پنجاب بورڈ جماعت گیارہویں کے نصاب میں شامل ہے اس کی تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : پھر ے راہ سے وہ یہاں
یہ آرزو تھی تجھے گل کے رُوبرو کرتے آج کی اس پوسٹ میں ہم خواجہ حیدرعلی آتش کی غزل ” یہ آرزو تھی تجھے گل کے رُوبرو کرتے ” جو کہ پنجاب بورڈ جماعت گیارہویں کے نصاب میں شامل ہے ، کی فرہنگ ، مفہوم اور تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : یہ
آج کی اس پوسٹ میں ہم جماعت گیارہویں ، پنجاب بورڈ کی غزل ” ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے ” کی تشریح و تفسیر کے بارے میں پڑھیں گے ۔ شعر نمبر 1 : ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے خزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے مشکل
گل کو ہوتا صبا ! قرار اے کاش ! آج کی اس پوسٹ میں ہم میر تقی میر کی ایک غزل جو کہ پنجاب بورڈ جماعت گیارہویں کے نصاب میں شامل ہے ، کی تشریح و توضیح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : گل کو ہوتا صبا ! قرار ہے کاش! رہتی ایک آدھ
جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا آج کی اس پوسٹ میں ہم جماعت گیارہویں ، پنجاب بورڈ کی غزل ” جس سر کو غرور آج ہے یاں تاجوری کا ” کی لغت ، مفہوم اور تشریح پر تفصیلی گفتگو کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : جس سر کو غرور آج ہے
خلاصہ آج کی اس پوسٹ میں ہم جماعت نہم پنجاب بورڈ کی نظم ” پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ” از علامہ اقبال کا خلاصہ پڑھیں گے ۔ خلاصہ کیا ہوتا : وہ خاص معنی جسے ادبی اظہار کا روپ دینا، فن کار کا مقصد ہوتا ہے، اس کے لئے ادب پارے کو ایک
مرکزی خیال آج کی اس پوسٹ میں ہم جماعت نہم پنجاب بورڈ کی نظم ” پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ” کا مرکزی خیال پیش کریں گے ۔ مرکزی خیال کا مطلب ہے وہ خاص معنی جسے ادبی اظہار کا روپ دینا، فن کار کا مقصد ہوتا ہے، اس کے لئے ادب پارے کو
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ آج کی اس پوسٹ میں ہم علامہ اقبال کی مشہور نظم ” پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ” جو کہ جماعت نہم پنجاب بورڈ کے نصاب کا حصہ ہے ، کی تشریح و توضیح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : ڈالی گئی جو فصل خزاں میں
برسات کی بہاریں آج کی اس پوسٹ میں ہم جماعت نہم پنجاب بورڈ کی نظم ” برسات کی بہاریں” از نظیر اکبر آبادی کا خلاصہ پڑھیں گے ۔ خلاصہ کیا ہوتا ؟ خلاصہ کا لغوی مطلب اختصار ، لُب لباب ، ماحصل ، اصل مطلب وغیرہ ۔ خلاصہ: شاعر نظیر اکبر آبادی اپنی نظم” برسات
برسات کی بہاریں آج کی اس پوسٹ میں ہم پنجاب بورڈ جماعت نہم کی نظم ” برسات کی بہاریں” از نظیر اکبر آبادی کا مرکزی خیال پیش کریں گے ۔ مرکزی خیال کا مطلب: وہ خاص معنی جسے ادبی اظہار کا روپ دینا، فن کار کا مقصد ہوتا ہے، اس کے لئے ادب پارے کو