خوش آمدید

میں اپنی اس ویب سائٹ پر آنے پر آپ سب کو خوش آمدید کہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کو میرا کام پسند آئے گا ۔ میں پاکستان کے تمام بورڈز کی اردو کی نصابی کتب بالخصوص جماعت نہم سے بارہویں تک پر کام کر رہا ہوں ۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو کسی خاص موضوع پر مواد درکار ہے تو آپ مجھ سے رابطہ کر کے بتا سکتے ہیں۔ سر ریاض شامی شکریہ.

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

آج کی اس پوسٹ میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ محترمہ کے بارے میں پڑھیں گے۔ حضرت خدیجہؓ بنت خُوَیلِد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلی زوجہ محترمہ تھیں۔ آپؓ قریش کے ایک معزز اور دولت مند خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور اپنی پاکیزگی، حسنِ اخلاق اور

نظم ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” کا فکری و فنی جائزہ

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” کا فکری و فنی جائزہ پیش کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ اس نظم کے شاعر فیض احمد فیض کا تعارف بھی پیش کریں گے ۔  : فیض کی ابتدائی زندگی فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں

نظم ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” کا مرکزی خیال

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” کا مرکزی خیال پیش کریں گے ۔ اس نظم کے شاعر فیض احمد فیض ہیں ۔ مرکزی خیال کیا ہوتا : وہ خاص معنی جسے ادبی اظہار کا روپ دینا، فن کار کا مقصد ہوتا ہے، اس کے لئے ادب پارے

نظم ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” کا خلاصہ

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” کا خلاصہ پڑھیں گے ۔ اس نظم کے شاعر فیض احمد فیض ہیں ۔ خلاصہ کیا ہوتا ؟  خلاصہ کا لغوی مطلب اختصار ، لُب لباب ، ماحصل ، اصل مطلب وغیرہ ۔ اصطلاحی طور پر خلاصہ کسی تحقیقی مضمون، مقالہ

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” کے تمام اشعار پڑھیں گے ۔ اس نظم کے شاعر کا نام فیض احمد فیض ہے ۔ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے بول زباں اب تک تیری ہے تیرا ستواں جسم ہے تیرا بول کہ جاں اب تک تیری ہے

نظم ” تنہائی” کا فکری و فنی جائزہ

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” تنہائی” کے فکری و فنی جائزہ کے بارے میں پڑھیں گے ۔ اس نظم کے شاعر فیض احمد فیض ہیں ۔  : فکری و فنی جائزہ  نظم ” تنہائی” فکری جائزہ: یہ نظم فیض احمد فیض کی مخصوص رومانوی اور انقلابی حسرتوں کی عکاس ہے، جس میں

نظم ” تنہائی” کا مرکزی خیال

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” تنہائی” کا مرکزی خیال پیش کریں گے ۔ اس نظم کے شاعر کا نام فیض احمد فیض ہے ۔ مرکزی خیال کیا ہوتا : وہ خاص معنی جسے ادبی اظہار کا روپ دینا، فن کار کا مقصد ہوتا ہے، اس کے لئے ادب پارے کو ایک دائرہ

نظم ” تنہائی” کا خلاصہ

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” تنہائی” کا خلاصہ پڑھیں گے ۔ اس نظم کے شاعر فیض احمد فیض ہیں ۔ خلاصہ کیا ہوتا ؟  خلاصہ کا لغوی مطلب اختصار ، لُب لباب ، ماحصل ، اصل مطلب وغیرہ ۔ اصطلاحی طور پر خلاصہ کسی تحقیقی مضمون، مقالہ ، جائزہ، کانفرنس کی کارروائی

نظم ” تنہائی”

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” تنہائی” کے تمام اشعار پڑھیں گے ۔ اس نظم کے شاعر فیض احمد فیض ہیں ۔ یہ ایک مختصر نظم ہے ۔ پھر کوئی آیا دل زار نہیں کوئی نہیں راہرو ہوگا کہیں اور چلا جائے گا ڈھل چکی رات بکھرنے لگا تاروں کا غبار لڑکھڑانے لگے

نظم ” صبح آزادی” کا فکری و فنی جائزہ

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” صبح آزادی” اگست 47 کے فکری و فنی جائزہ کے بارے میں پڑھیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ شاعر کا تعارف بھی پیش کریں گے ۔  : فیض احمد فیض کا تعارف  اقبال اور غالب کے بعد اردو کے سب سے عظیم شاعر فیض احمد فیض