خوش آمدید

میں اپنی اس ویب سائٹ پر آنے پر آپ سب کو خوش آمدید کہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کو میرا کام پسند آئے گا ۔ میں پاکستان کے تمام بورڈز کی اردو کی نصابی کتب بالخصوص جماعت نہم سے بارہویں تک پر کام کر رہا ہوں ۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو کسی خاص موضوع پر مواد درکار ہے تو آپ مجھ سے رابطہ کر کے بتا سکتے ہیں۔ سر ریاض شامی شکریہ.

شکوہ بند نمبر 2

شکوہ بند نمبر 2 ہے بجا شیوہ تسلیم میں مشہور ہیں ہم قصہء درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم سازِ خاموش ہیں ، فریاد سے معمور ہیں ہم نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم اے خدا ! شکوہ ء اربابِ وفا بھی سن لے خُوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ

شکوہ بند نمبر 1

شکوہ بند نمبر 1 کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہُوں؟ فکرِ فردا نہ کروں ، محوِ غمِ دوش رہوں نالے بلبل کے سنوں ، اور ہمہ تن گوش رہوں ہمنوا ! میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوں جُرات آموز مری تابِ سخن ہے مجھ کو شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ

شکوہ از علامہ محمد اقبال

شکوہ از علامہ محمد اقبال شاعر مشرق ، حکیم الامت اور مفکر پاکستان سر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی شہرہ آفاق نظم شکوہ کے تمام بند ۔۔۔۔۔۔۔ بند نمبر 1 :  شکوہ (1911) محمد اقبال کیوں زیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوں فکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رھوں نالے بُلبُل کے سُنوں اور

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے یہ شعر غلط العام ہے اسے عام طور پر اقبال سے منسوب کیا جاتا ہے حالانکہ یہ شعر اقبال کا نہیں بلکہ مولانا محمد علی جوہر کا ہے ۔ قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد مولانا محمد علی جوہر

ن م راشد

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا شعر نمبر 1:  کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا مفہوم :  کاش میں نے مشکلات کا سامنا کیا ہوتا، کاش طوفان میں اپنی کشتی کو لے جاتا۔ اگر ڈوب بھی جاتا تو لہریں مجھے واپس باہر پھینک دیتیں۔ تشریح

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے از غالب

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے مرزا غالب کی غزل کی تشریح شعر نمبر 1 :  بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے تشریح : غالب کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی جدت پسندی ہے۔ بیان اور اسلوب کی جدت اُن کی پہچان ہے۔ انہوں

نظم آمد صبح از میر انیس

نظم آمد صبح از میر انیس مرثیہ : مرثیہ عربی زبان کا لفظ ہے جو لفظ رثی سے مشتق ہے۔ رثی کے معانی ہیں مردے پر رونا ، آہ و زاری کرنا۔“ یہ صنف عربی شاعری میں رائج تھی۔ عزیزوں اور بزرگ ہستیوں کی موت پر رنج والم کے جذبات سے لبریز جو اشعار کہے

خطاب بہ جوانان اسلام از علامہ محمد اقبال

خطاب بہ جوانان اسلام از علامہ محمد اقبال فیڈرل اور پنجاب بورڈ جماعت دہم کی نظم ” خطاب بہ جوانان اسلام” از علامہ محمد اقبال کے تمام اشعار کی تشریح شعر نمبر 1 : کبھی اے نوجواں مسلم ! تدبر بھی کیا تو نے وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا

رسول مجتبیٰ کہیے محمد مصطفیٰ کہیے

رسول مجتبیٰ کہیے محمد مصطفیٰ کہیے نظم نعت از ماہر القادری تمام اشعار کی تشریح شعر نمبر 1 :  رسول مجتبی کہیے ، محمد مصطفیٰ کہیے خُدا کے بعد بس وہ ہیں، پھر اس کے بعد کیا کہیے  تشریح : اس شعر میں شاعر نے محبت و عظمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی

بازیچہ اطفال ہے

دوسرا کون ہے ؟ جہاں تو ہے حمد از امیر مینائی شعر نمبر 1 :  دوسرا کون ہے ؟ جہاں تو ہے کون جانے تجھے ؟ کہاں تو ہے تشریح: یہ شعر امیر مینائی کی حمدیہ نظم سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی عظمت کو بیان