خوش آمدید

میں اپنی اس ویب سائٹ پر آنے پر آپ سب کو خوش آمدید کہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ کو میرا کام پسند آئے گا ۔ میں پاکستان کے تمام بورڈز کی اردو کی نصابی کتب بالخصوص جماعت نہم سے بارہویں تک پر کام کر رہا ہوں ۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو کسی خاص موضوع پر مواد درکار ہے تو آپ مجھ سے رابطہ کر کے بتا سکتے ہیں۔ سر ریاض شامی شکریہ.

حضرت محمد کا مسلمہ کذاب کو خط

آج کی اس پوسٹ میں ہم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط مسلمہ کذاب کے نام پڑھیں گے ۔ یہ دراصل مسلمہ کذاب کے خط کا جواب ہے ۔ مسیلمہ کذاب نے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا:- ” میرے ساتھ ایک معاہدہ کر لیں ، جب تک آپ

نظم ” نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن” کا فکری و فنی جائزہ

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن” کا فکری و فنی جائزہ پیش کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ شاعر فیض احمد فیض کا تعارف بھی پیش کریں گے ۔  : فیض کی ابتدائی زندگی فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔

نظم ” نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن”

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن” کا مرکزی خیال پیش کریں گے ۔ اس نظم کے شاعر فیض احمد فیض ہیں ۔ مرکزی خیال کیا ہوتا : وہ خاص معنی جسے ادبی اظہار کا روپ دینا، فن کار کا مقصد ہوتا ہے، اس کے لئے ادب

نظم ” نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن”

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن” کا خلاصہ پڑھیں گے ۔ اس نظم کے شاعر فیض احمد فیض ہیں ۔ خلاصہ کیا ہوتا ؟  خلاصہ کا لغوی مطلب اختصار ، لُب لباب ، ماحصل ، اصل مطلب وغیرہ ۔ اصطلاحی طور پر خلاصہ کسی تحقیقی مضمون،

نظم ” نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن”

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” نثار میں تیری گلیوں کے اے وطن کہ” کے تمام اشعار پڑھیں گے جس کے شاعر فیض احمد فیض ہیں اور اگلی پوسٹ میں ہم اس نظم کا خلاصہ ، مرکزی خیال اور فکری و فنی جائزہ پیش کریں گے ان شاءاللہ ۔ نثار میں تری گلیوں

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

آج کی اس پوسٹ میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ محترمہ کے بارے میں پڑھیں گے۔ حضرت خدیجہؓ بنت خُوَیلِد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پہلی زوجہ محترمہ تھیں۔ آپؓ قریش کے ایک معزز اور دولت مند خاندان سے تعلق رکھتی تھیں اور اپنی پاکیزگی، حسنِ اخلاق اور

نظم ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” کا فکری و فنی جائزہ

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” کا فکری و فنی جائزہ پیش کریں گے اور اس کے ساتھ ساتھ اس نظم کے شاعر فیض احمد فیض کا تعارف بھی پیش کریں گے ۔  : فیض کی ابتدائی زندگی فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں

نظم ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” کا مرکزی خیال

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” کا مرکزی خیال پیش کریں گے ۔ اس نظم کے شاعر فیض احمد فیض ہیں ۔ مرکزی خیال کیا ہوتا : وہ خاص معنی جسے ادبی اظہار کا روپ دینا، فن کار کا مقصد ہوتا ہے، اس کے لئے ادب پارے

نظم ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” کا خلاصہ

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” کا خلاصہ پڑھیں گے ۔ اس نظم کے شاعر فیض احمد فیض ہیں ۔ خلاصہ کیا ہوتا ؟  خلاصہ کا لغوی مطلب اختصار ، لُب لباب ، ماحصل ، اصل مطلب وغیرہ ۔ اصطلاحی طور پر خلاصہ کسی تحقیقی مضمون، مقالہ

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” بول کہ لب آزاد ہیں تیرے” کے تمام اشعار پڑھیں گے ۔ اس نظم کے شاعر کا نام فیض احمد فیض ہے ۔ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے بول زباں اب تک تیری ہے تیرا ستواں جسم ہے تیرا بول کہ جاں اب تک تیری ہے