جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی(تشریح)

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی شعر نمبر 1 جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی کھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی مشکل الفاظ کے معانی: آدابِ خود آگاہی: اپنی ذات کو پہچاننے کے طریقے، معرفتِ نفس۔ اسرارِ شہنشاہی: بادشاہی کے راز، حکمرانی کے گر۔ عشق: یہاں عشق سے مراد اللہ اور اس کے

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو( تشریح)

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو شعر نمبر 1 (مطلع) کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو مشکل الفاظ: نوا سنجِ فغاں (آہ و زاری کرنے والا)، زباں ہونا (بولنے کی طاقت

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا( تفصیلی تشریح)

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا(تفصیلی تشریح) شعر نمبر 1 (مطلع) بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا مشکل الفاظ: بس کہ: چونکہ۔ دشوار: کٹھن۔ میسر: دستیاب۔ انساں ہونا: اعلیٰ اخلاقی و انسانی اقدار کا حامل ہونا۔ مفہوم: دنیا میں کسی بھی کام کا پایۂ

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا( تشریح)

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا شعر نمبر 1 (مطلع) بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا مشکل الفاظ: بس کہ (چونکہ)، دشوار (مشکل)، میسر (دستیاب/ممکن)، انساں ہونا (اخلاق و آدمیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہونا)۔ مفہوم: چونکہ دنیا میں کسی بھی کام کا

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(تشریح)

نہ گیا کوئی عدم کو دل شاداں لے کر(تشریح) شعر نمبر 1: نہ گیا کوئی عدم کو دلِ شاداں لے کر کیا کیا نہ گئے حسرت و ارماں لے کر مشکل الفاظ کے معانی: عدم: موت، وہ جگہ جہاں کچھ نہ ہو، آخرت۔ دلِ شاداں: خوش دل، مسرور دل۔ حسرت و ارماں: ادھوری خواہشات، نا

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا(تشریح)

دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا شعر نمبر 1: دنیا میں جب تلک کہ میں اندوہ گیں رہا  غم دل سے اور دل سے میرے غم قریں رہا مشکل الفاظ کے معنی: اندوہ گیں: غم زدہ، دکھی۔ ہمدم: دوست، ساتھی۔ کہیں: یہاں مراد پاس یا ساتھ ہے۔ مفہوم: جب تک میں اس

کیا فرق داغ و گل میں اگر گل میں بو نہ ہو

کیا فرق داغ و گل میں اگر گل میں بو نہ ہو شعر نمبر 1: کیا فرق داغ و گل میں کہ جس گل میں بو نہ ہو کس کام کا وہ دل ہے کہ جس دل میں تو نہ ہو مشکل الفاظ کے معنی: بو: خوشبو، مہک۔ داغ: دھبہ، نشان۔ تو: یہاں مراد اللہ

کام مردوں کے جو ہیں

کام مردوں کے جو ہیں شعر نمبر 1: کام مردوں کے جو ہیں سو وہی کر جاتے ہیں جان سے اپنی جو کوئی کے گزر جاتے ہیں مشکل الفاظ: مردوں: یہاں مرد سے مراد بہادر، جواں ہمت اور صاحبِ کردار لوگ ہیں۔ گزر جانا: جان قربان کر دینا، فدا ہو جانا۔ مفہوم: حقیقی جرات مند

کام مردوں کے جو ہیں

کام مردوں کے جو ہیں سو وہی کر جاتے ہیں جان سے اپنے جو کوئی کہ گزر جاتے ہیں موت کیا آکے فقیروں سے تجھے لینا ہے مرنے سے آگے ہی یہ لوگ تو مر جاتے ہیں دید وادید جو ہو جائے غنیمت سمجھو جوں شرر ورنہ ہم اے اہل نظر جاتے ہیں آنکھیں اس

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے

یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے شعر نمبر 1: یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے یہ دل، دلِ نادان سہی، خوددار بہت ہے مفہوم: اگرچہ اپنی بات کہنے کے بہت سے طریقے اور انداز موجود ہیں، لیکن میرا دل اگرچہ نادان ہے مگر اپنی غیرت اور خودداری کی وجہ سے کسی کے سامنے