آدمی نامہ از نظیر اکبر آبادی

آدمی نامہ از نظیر اکبر آبادی بند نمبر 1 دنیا میں بادشاہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی ٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی

نظم آمد صبح از میر انیس

نظم آمد صبح از میر انیس بند نمبر 1 : پھولا شفق سے چرخ پہ جب لالا زارِ صبح گلزارِ شب خزاں ہوا، آئی بہارِ صبح کرنے لگا فلک زرِ انجم نثارِ صبح سرگرم ہوئے طاعتِ پروردگارِ صبح  تھا چرخِ اخضری پہ یہ رنگ آفتاب کا کھلتا ہے جیسے پھول چمن میں گلاب کا مفہوم:

یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں

یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں شعر نمبر ۱: یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں مفہوم: ہم جیسے بھی ہیں، ہمیں اس بات پر ناز ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کے کچھ لمحات اپنے محبوب کی رفاقت

وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے، جو نشاطِ شامِ وصال دے

وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے، جو نشاطِ شامِ وصال دے شعر نمبر 1 (مطلع) وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے، جو نشاطِ شامِ وصال دے جو پلک جھپک میں گزر گئے، مجھے پھر وہی مہ و سال دے مفہوم: اے پروردگار! میری آنکھوں کو دوبارہ وہ خواب عطا کر جو ملاقات کی خوشی کا

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

ستاروں سے آگے جہاں   اور  بھی ہیں شعر نمبر 1 ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں مفہوم: اسمان پر نظر آنے والے ان گنت ستاروں کے پار بھی بے شمار دنیائیں موجود ہیں، اور اللہ کی محبت و معرفت کے راستے میں ابھی کئی کٹھن آزمائشیں باقی

سب کہاں کچھ لالا و گل میں نمایاں ہو گئیں

سب کہاں کچھ لالا و گل میں نمایاں ہو گئیں شعر نمبر 1: سب کہاں کچھ لالا و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں مفہوم: تمام خوبصورت چہرے دوبارہ نظر نہیں آتے، کچھ پھولوں کی صورت میں زمین سے باہر آ گئے ہیں، ورنہ نہ جانے

جگ میں آ کر ادھر دیکھا ادھر دیکھا

جگ میں آکر ادھر دیکھا ادھر دیکھا شعر نمبر 1 ​شعر: جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا تو ہی نظر آیا جدھر دیکھا ​مفہوم: اس دنیا میں قدم رکھنے کے بعد میں نے جس سمت بھی اپنی نظر دوڑائی، مجھے کائنات کے ہر منظر اور ہر ذرے میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 33 تا 39)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 33 تا 39) شعر نمبر 33 کیا قاعدے سے شروع کلام پڑھانے لگے علم اس کو تمام مفہوم: شہزادے نے باقاعدہ اصول و ضوابط (قاعدے) سے کلام کا آغاز کیا اور اساتذہ اسے تمام ضروری علوم سکھانے لگے۔ تشریح: میر حسن بیان کرتے ہیں کہ

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 25 تا 32)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 25 تا 32) شعر نمبر 25 سبزہِ کوہ پر سایہِ ابرِ تر گرے مینہ تو موتی جھڑیں فرش پر مفہوم: پہاڑ کے سبزے پر نمناک بادلوں کا سایہ ہے اور جب بارش برستی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے فرش پر موتی جھڑ رہے ہوں۔

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن( شعر 17 تا 24)

داستان تیاری میں باغ کی از میر حسن ( شعر 17 تا 24) شعر نمبر 17 عجب چاندنی میں گلوں کی بہار ہر ایک گل سفیدی سے ماہتاب دار مفہوم: چاندنی رات میں پھولوں پر عجیب رونق برسی ہے اور ہر پھول چاندنی کی سفیدی جذب کر کے خود ایک چھوٹا سا چاند بن گیا