حمد
آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم حمد جس کے شاعر ماہر القادری ہیں ۔ اس نظم کے اشعار کی تشریح ، مشکل الفاظ کے معانی اور مفہوم پڑھیں گے ۔ شعر نمبر 1 : فکر و دانش کی ہے معراج خدا کا اقرار یہی وجدان کی آواز ہے فطرت کی پکار مشکل الفاظ کے
آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم حمد جس کے شاعر ماہر القادری ہیں ۔ اس نظم کے اشعار کی تشریح ، مشکل الفاظ کے معانی اور مفہوم پڑھیں گے ۔ شعر نمبر 1 : فکر و دانش کی ہے معراج خدا کا اقرار یہی وجدان کی آواز ہے فطرت کی پکار مشکل الفاظ کے
آج کی اس پوسٹ میں ہم مناقب عمر بن عبد العزیز سبق کی تشریح ، سیاق و سباق ، حوالہ متن ، سوالات اور خلاصہ کے بارے میں پڑھیں گے ۔ مناقبِ عمر بن عبدالعزیزؓ سبق : مناقبِ عمر بن عبدالعزیزؓ مصنف : علامہ شبلی نعمانی ماخوذ از : مقالاتِ شبلی ، جلد چہارم حوالہ
آج کی اس پوسٹ میں ہم ” بانگِ درا” اقبال کی اردو شاعری پر مشتمل مجموعہ کے بارے میں پڑھیں گے ۔ اس کا تعارف ، وجہ تصنیف اور اس کے تمام حصوں کے بارے میں تفصیل سے پڑھیں گے ۔ تعارف : بانگِ درا علامہ اقبالؒ کا پہلا اردو شعری مجموعہ ہے جو
آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم نعت ” دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمھیں تو ہو” کی تشریح ، مفہوم اور مشکل الفاظ کے معانی پڑھیں گے ۔ شعر نمبر 1 : دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تم ہی تو ہو ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تم
آج کی پوسٹ میں “کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے” نظم حمد کی تشریح مفہوم اور مشکل الفاظ کے معانی بیان کیے جائیں گے ۔ شعر نمبر 1 : کوئی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے ، وہی خدا ہے دکھائی بھی جو نہ دے ، نظر بھی جو آ
یوں کہنے کو پیرایہ اظہار بہت ” یوں کہنے کو پیرا یہ اظہار بہت ہے” آج کی اس پوسٹ میں ہم اس غزل کی تشریح ، مفہوم اور مشکل الفاظ کے معانی پیش کریں گے ۔ اس غزل کی شاعری زہرا نگاہ ہیں ۔ شعر نمبر 1 : یوں کہنے کو پیرایہ اظہار بہت ہے
ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی آج کی اس پوسٹ میں ہم غزل ” ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی” کی تشریح و تفسیر پڑھیں گے ۔ اس غزل کے شاعر حسرت موہانی ہیں ۔ شعر نمبر 1 : ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی اک طرفہ تماشا ہے
آئینہ اپنی نظر سے نہ جدا ہونے دو آج کی اس پوسٹ میں ہم داغ دہلوی کی غزل ” آئینہ اپنی نظر سے نہ جدا ہونے دو ” کی لغت ، مفہوم اور تشریح کے بارے میں پڑھیں گے ۔ شعر نمبر 1 : آئینہ اپنی نظر سے نہ جدا ہونے دو کوئی دم اور
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے آج کی اس پوسٹ میں ہم مرزا غالب کی غزل ٫٫ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ،، کی تشریح پڑھیں گے ۔ شعر نمبر 1 : ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے میرے ارمان، لیکن پھر بھی
دائم پڑا ہُوا تیرے در پر نہیں ہوں میں آج کی اس پوسٹ میں ہم مرزا غالب کی غزل ” دائم پڑا ہُوا ہوں تیرے در پر نہیں ہوں میں” کی تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں