کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا فیڈرل اور پنجاب بورڈ اردو جماعت نہم کی غزل کی تشریح ۔۔۔۔۔۔ شعر  نمبر 1 :  کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا مفہوم : کاش میں نے مشکلات کا سامنا کیا ہوتا، کاش طوفان میں اپنی کشتی کو لے

پیام لطیف از شاہ عبدالطیف بھٹائی

پیام لطیف از شاہ عبدالطیف بھٹائی شعر نمبر 1 : بے اعتدالیوں سے نحیف و نزار ہیں خود سر ہیں اور چارہ گری کے شکار ہیں تشریح : نظم پیام لطیف کے اس شعر میں شاعر شاہ عبداللطیف بھٹائی کہتا ہے کہ انسان بے اعتدالیوں کی وجہ سے کمزور اور ناتواں ہو گیا ہے۔ بے

کرکٹ اور مشاعرہ از دلاور فگار

کرکٹ اور مشاعرہ از دلاور فگار شعر نمبر 1 : مشاعرہ کا بھی تفریح ایم ہوتا ہے مشاعرہ میں بھی کرکٹ کا گیم ہوتا ہے تشریح : مزاحیہ شاعری کی دنیا میں جسے ‘شہنشاہ ظرافت’ اور ‘اکبر ثانی’ کے طور پر پہچانا جاتا ہے، اس کو دلاور فگار کہتے ہیں۔ اردو کی مزاحیہ شاعری کے

دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے

دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے شعر نمبر 1 :  دلوں کے ساتھ جبینیں جو خم نہیں کرتے وہ پاس مدحت خیر الامم نہیں کرتے تشریح : افتخار عارف اپنی نسل کے شعرا میں سنجیدہ ترین شاعر ہیں۔ وہ عام شعراء کی طرح تجربہ کے کسی جزوی اظہار پر قناعت نہیں کرتے بلکہ

ن م راشد

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا شعر نمبر 1:  کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا مفہوم :  کاش میں نے مشکلات کا سامنا کیا ہوتا، کاش طوفان میں اپنی کشتی کو لے جاتا۔ اگر ڈوب بھی جاتا تو لہریں مجھے واپس باہر پھینک دیتیں۔ تشریح

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے از غالب

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے مرزا غالب کی غزل کی تشریح شعر نمبر 1 :  بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے تشریح : غالب کی شاعری کی سب سے نمایاں خصوصیت ان کی جدت پسندی ہے۔ بیان اور اسلوب کی جدت اُن کی پہچان ہے۔ انہوں

نظم آمد صبح از میر انیس

نظم آمد صبح از میر انیس مرثیہ : مرثیہ عربی زبان کا لفظ ہے جو لفظ رثی سے مشتق ہے۔ رثی کے معانی ہیں مردے پر رونا ، آہ و زاری کرنا۔“ یہ صنف عربی شاعری میں رائج تھی۔ عزیزوں اور بزرگ ہستیوں کی موت پر رنج والم کے جذبات سے لبریز جو اشعار کہے

خطاب بہ جوانان اسلام از علامہ محمد اقبال

خطاب بہ جوانان اسلام از علامہ محمد اقبال فیڈرل اور پنجاب بورڈ جماعت دہم کی نظم ” خطاب بہ جوانان اسلام” از علامہ محمد اقبال کے تمام اشعار کی تشریح شعر نمبر 1 : کبھی اے نوجواں مسلم ! تدبر بھی کیا تو نے وہ کیا گردوں تھا تو جس کا ہے اک ٹوٹا ہوا

رسول مجتبیٰ کہیے محمد مصطفیٰ کہیے

رسول مجتبیٰ کہیے محمد مصطفیٰ کہیے نظم نعت از ماہر القادری تمام اشعار کی تشریح شعر نمبر 1 :  رسول مجتبی کہیے ، محمد مصطفیٰ کہیے خُدا کے بعد بس وہ ہیں، پھر اس کے بعد کیا کہیے  تشریح : اس شعر میں شاعر نے محبت و عظمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو انتہائی

بازیچہ اطفال ہے

دوسرا کون ہے ؟ جہاں تو ہے حمد از امیر مینائی شعر نمبر 1 :  دوسرا کون ہے ؟ جہاں تو ہے کون جانے تجھے ؟ کہاں تو ہے تشریح: یہ شعر امیر مینائی کی حمدیہ نظم سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی عظمت کو بیان