ہستی اپنی حباب کی سی ہے

ہستی اپنی حباب کی سی ہے آج کی اس پوسٹ میں ہم میر تقی میر کی مشہور غزل ” ہستی اپنی حباب کی سی ہے  ” کی لغت ، مفہوم اور تشریح پر سیر حاصل گفتگو کریں گے ۔ شعر نمبر 1 :  ہستی اپنی حباب کی سی ہے یہ نمائش سراب کی سی ہے

دو عالم کا امداد گار آ گیا نعت

نعت از احسان دانش دو عالم کا امداد گار آ گیا نعت آج کی اس پوسٹ میں ہم ” دو عالم کا امداد گار آ گیا” جماعت دہم کی ایک نظم ” نعت ” جس کے مصنف احسان دانش ہیں ، کے بارے میں سیر حاصل گفتگو کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : دو

اسی نے ایک حرف کن سے پیدا کر دیا عالم

اسی نے ایک حرف کن سے پیدا کر دیا عالم  آج کی اس پوسٹ میں ہم حفیظ جالندھری کی نظم ” حمد ”  کے بارے میں پڑھیں گے ۔ حمد کے مشکل الفاظ کے معانی ، مفہوم اور تشریح پر روشنی ڈالی جائے گی ۔ شعر نمبر 1 : اسی نے ایک حرف کن سے

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا  آج کی اس پوسٹ میں ہم احمد ندیم قاسمی کی ایک غزل ” کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا  ” کی لغت ، مفہوم اور تشریح پر جامع گفتگو کریں گے ۔ شعر نمبر 1 :  کون کہتا ہے کہ  موت

بڑھے چلو

بڑھے چلو آج کی اس پوسٹ میں ہم اختر شیرانی کی ایک نظم ” بڑھے چلو ” جو کہ وطن کی محبت کے بارے میں لکھی گئی ہے ، کے بارے میں پڑھیں گے ۔ مشکل الفاظ کے معانی ، مفہوم اور تشریح پر سیر حاصل بحث کریں گے ۔ بند نمبر 1 :  

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں ، کب ہات میں تیرا ہات نہیں

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں ، کب ہات میں تیرا ہات نہیں  آج کی اس پوسٹ میں ہم فیض احمد فیض کی ایک مشہور غزل کی تشریح پڑھیں گے ۔ غزل کے شاعر کا تعارف: اس تعارف کو آپ اس غزل کے کسی بھی شعر کے شروع میں لکھ سکتے ۔ ترقی پسند تحریک

سر میں سودا بھی نہیں، دل میں تمنا بھی نہیں

سر میں سودا بھی نہیں، دل میں تمنا بھی نہیں آج کی اس پوسٹ میں ہم فراق گورکھپوری کی ایک غزل ” سر میں سودا بھی نہیں ،دل میں تمنا بھی نہیں” کی لغت ، مفہوم اور تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : سر میں سودا بھی نہیں، دل میں تمنا بھی نہیں

جواب شکوہ

جواب شکوہ از علامہ محمد اقبال جواب شکوہ ایک تاریخی نظم ہے ۔ جس میں مسلمانوں کے عروج و زوال کا تذکرہ ہے ۔ آج کی اس پوسٹ میں ہم علامہ اقبال کی اسی مشہور نظم۔ ” جواب شکوہ ” کے چند بند کی لغت ، اور مفہوم کے ساتھ تشریح کریں گے ۔ بند

جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں

جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں  آج کی اس پوسٹ میں ہم علامہ اقبال کی ایک غزل ” جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں” کی لغت ، مفہوم اور تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : جنھیں میں ڈھونڈتا تھا آسمانوں میں زمینوں میں وہ نکلے میرے ظلمت خانہ دل