تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا شعر نمبر 1 تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا مشکل الفاظ کے معانی: مستعار: ادھار لیا ہوا، عارضی۔ خورشید: سورج۔ ذرہ ظہور: معمولی سی جھلک یا نمائش۔ مفہوم: کائنات میں جہاں کہیں بھی روشنی

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری

رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں میری اردو شاعری کے خداے سخن، میر تقی میر کی یہ غزل ان کے مخصوص رنگِ تغزل، سوز و گداز اور سادگی و پرکاری کا بہترین نمونہ ہے۔ ذیل میں اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح پیش ہے۔ شعر نمبر 1 رہی نگفتہ مرے دل میں داستاں

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے پہلا شعر: ​ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پا سکے میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے ​ مشکل الفاظ کے معانی: ​ارض: زمین ​سما: آسمان ​وسعت: پھیلاؤ، گنجائش ​سما سکے: سما جانا، گنجائش ہونا ​مفہوم: بقول شاعر، اللہ تعالیٰ کی ذات

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا شعر نمبر 1: مقدور ہمیں کب تیرے وصفوں کے رقم کا اک قطعہ ہے یہ تیری ہی لوح و قلم کا مشکل الفاظ کے معانی: مقدور: طاقت، بساط، قدرت۔ وصفوں: خوبیاں، صفات۔ رقم کرنا: لکھنا، تحریر کرنا۔ لوح و قلم: تختہ اور قلم (مراد تقدیر لکھنے والا

زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے

زمیں سے رشتۂ دیوار و در بھی رکھنا ہے   شعر نمبر 1 زمین سے رشتہ دیوار و در بھی رکھنا ہے اسی میں اپنا کوئی نام و بر بھی رکھنا ہے مشکل الفاظ کے معانی: دیوار و در: گھر، مکان، ٹھکانہ۔ رشتہ: تعلق، واسطہ۔ نام و بر (نام و نشاں): پہچان، اپنی موجودگی کا

کس سے اظہار مدعا کیجے

کس سے اظہار مدعا کیجے شعر نمبر 1 کس سے اظہارِ مدّعا کیجیے آپ ملتے نہیں کیا کیجیے مشکل الفاظ کے معنی: مدّعا: دل کا مقصد، تمنا، دلی خواہش۔ اظہار: بیان کرنا، ظاہر کرنا۔ مفہوم: میرے دل میں بہت سی باتیں اور تمنائیں ہیں لیکن انہیں سنانے کے لیے کوئی دوسرا میسر نہیں، اور آپ

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا

دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا شعر نمبر 1 دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا وہ تیری یاد تھی اب یاد آیا مشکل الفاظ کے معانی: سبب: وجہ دل دھڑکنا: بے چین ہونا، بے قرار ہونا یاد آیا: سمجھ آیا، ذہن میں آیا مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ میرے دل کی بے قراری اور دھڑکن

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد شعر نمبر 1 دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد اب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد مشکل الفاظ کے معانی: ستم: ظلم، ناانصافی، سختیاں۔ وفا: نبھانا، پیار میں ثابت قدمی۔ سوا: علاوہ، بغیر۔ مفہوم: شاعر کہتا ہے کہ میں محبت

سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں

سر میں سودا بھی نہیں ، دل میں تمنّا بھی نہیں شعر نمبر 1 سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں لیکن اس ترکِ محبت کا بھروسہ بھی نہیں مشکل الفاظ کے معانی: سودا: جنون، عشق کی دیوانگی (سر کی کیفیت)۔ تمنا: خواہش، آرزو (دل کی کیفیت)۔ ترکِ محبت: محبت چھوڑ دینا،

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا

اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا شعر نمبر 1 اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا رنج راحت فزا نہیں ہوتا مشکل الفاظ کے معانی: اثر: تاثر، اثر پذیری رنج: غم، دکھ راحت فزا: سکون یا خوشی بڑھانے والا مفہوم: میرے دکھ اور آہوں کا محبوب پر کوئی اثر نہیں ہوتا اور میرا یہ غم میرے