ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے آج کی اس پوسٹ میں ہم مرزا غالب کی غزل ٫٫ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے ،، کی تشریح پڑھیں گے ۔ شعر نمبر 1 :  ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے بہت نکلے میرے ارمان، لیکن پھر بھی

دائم پڑا ہُوا تیرے در پر نہیں ہوں میں

دائم پڑا ہُوا تیرے در پر نہیں ہوں میں آج کی اس پوسٹ میں ہم مرزا غالب کی غزل ” دائم پڑا ہُوا ہوں تیرے در پر نہیں ہوں میں” کی تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 :  دائم پڑا ہوا تیرے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں

ناگہ چمن میں جب وہ گل اندام آ گیا

ناگہ چمن وہ جب وہ گل اندام آ گیا آج کی اس پوسٹ کو شاعر  شیخ غلام ہمدانی مصحفی کی غزل ” ناگہ چمن میں جب وہ گل اندام آ گیا” کی تشریح پڑھیں گے ۔ شعر نمبر 1 :  نا گہ چمن میں جب وہ گل اندام آ گیا گل کو شکست رنگ کا

قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا

قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا آج کی اس پوسٹ میں ہم خواجہ میر درد کی ایک غزل ” قتل عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا” کی تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 : قتلِ عاشق کسی معشوق سے کچھ دور نہ تھا پر تیرے عہد کے آگے تو

بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے

بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے شعر نمبر 1 :  بازیچہ اطفال ہے دنیا مرے آگے ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے مشکل الفاظ کے معانی: بازیچہ اطفال ( بچوں کا کھیل ) ، شب و روز ( دن اور رات ) مفہوم : یہ دنیا محض کھیل تماشے کے سوا کچھ نہیں

پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے

پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے آج کی اس پوسٹ میں ہم میر تقی میر کی غزل ” پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے” کا مفہوم ، لغت اور تشریح کریں گے ۔ شعر نمبر 1 :  پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے اب صبح ہونے آئی ہے اک

فقیرانہ آئے صدا کر چلے گیارھویں جماعت غزل

فقیرانہ آئے صدا کر چلے گیارھویں جماعت غزل خیبر پختونخوا بورڈ آج کی اس غزل ” فقیرانہ آئے صدا کر چلے” کی تشریح کریں گے ۔ یہ غزل فیڈرل بورڈ اور خیبرپختونخوا بورڈ میں شامل ہے ۔ اس غزل کے شاعر میر تقی میر ہیں ۔ شعر نمبر 1 : فقیرانہ آئے صدا کر چلے

نظم بڑے ڈرپوک ہو تارو کی تشریح

نظم بڑے ڈرپوک ہو تارو کی تشریح آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” بڑے ڈرپوک ہو تارو” کا مفہوم ، مشکل الفاظ کے معانی اور تشریح کریں گے ۔ بند نمبر 1  !بڑے ڈرپوک ہو تارو  !فقط شب کو نکلتے ہو کبھی آنسو کی بھیگی مامتا میں مہکتی چاندنی کی اوڑھنی میں ۔۔۔۔۔۔

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں

آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” ہمیشہ دیر کر دیتا  ہوں” جس کے شاعر منیر نیازی ہیں کی تشریح پڑھیں گے ۔ بند نمبر 1 : ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں ضروری بات کرنی ہو ، کوئی وعدہ نبھانا ہو اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو

نفیر عمل نظم کی تشریح

نفیر عمل نظم کی تشریح آج کی اس پوسٹ میں ہم نظم ” نفیر عمل” کی تشریح کریں گے ۔ اس نظم کے شاعر مجید امجد ہیں ۔ بند نمبر 1 : آؤ کب تک گلا شومی تقدیر کریں آؤ کب تلک ماتم ناکامی تدبیر کریں کب تلک شیون جور فلک پیر کریں کب تلک