دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا

دعا میں ذکر کیوں ہو مدعا کا اردو ادب کے آسمان پر حسرت موہانی ایک ایسے درخشندہ ستارے ہیں جنہوں نے عشق اور انقلاب کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا۔ ان کی غزلیں جہاں حسن و عشق کی لطافتوں سے لبریز ہیں، وہاں ان میں تصوف اور اخلاقی بلندی کا عکس بھی نمایاں ہے۔

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں بہادر شاہ ظفر کی یہ غزل اردو ادب کا وہ شاہکار ہے جو محض شاعری نہیں بلکہ ایک گرتے ہوئے عہد کی سسکی اور ایک بے بس بادشاہ کے دل کی پکار ہے ۔  اس غزل کی مکمل تشریح، معانی اور مفہوم درج ذیل ہے ۔ شاعر

لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں

لگتا نہیں ہے دل میرا اجڑے دیار میں شاعر کا تعارف: بہادر شاہ ظفر ابو المظفر سراج الدین محمد بہادر شاہ ظفر (1775ء – 1862ء) مغلیہ سلطنت کے آخری تاجدار تھے۔ وہ ایک رحم دل انسان، صوفی منش بزرگ اور اردو کے مایہ ناز شاعر تھے۔ ان کا دورِ حکومت سیاسی طور پر انتہائی کمزور

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے مرزا غالب کی یہ غزل ان کے فلسفہ، انانیت اور طرزِ بیان کا شاہکار ہے۔ ذیل میں مرزا غالب کی اس غزل کے ہر شعر کی مکمل تشریح، معانی اور مفہوم درج ہے ۔ شعر نمبر 1 ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے نہ شعلہ میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ ادا کوئی بتاؤ کہ وہ شوخ تند خو کیا ہے یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے یہ خواجہ حیدر علی آتش کی ایک شاہکار غزل ہے جو لکھنوی دبستانِ شاعری کی جمالیات اور تصوف کے امتزاج کا بہترین نمونہ ہے۔ ذیل میں اس غزل کے تمام اشعار کی تفصیلی تشریح، معانی اور مفہوم درج ہیں۔ شعر نمبر 1 دہن پر ہیں ان کے

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے کلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے تمہارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیں گل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے بہار آئی ہے نشہ میں جھومتے ہیں

بیداری کا منشور: اگر تم آنکھیں نہیں کھولو گے تو تمہارے راستے کا فیصلہ کوئی اور کرے گا

بیداری کا منشور: اگر تم آنکھیں نہیں کھولو گے تو تمہارے راستے کا فیصلہ کوئی اور کرے گا بیداری کا منشور: اگر تم آنکھیں نہیں کھولو گے تو تمہارے راستے کا فیصلہ کوئی اور کرے گا تمہید: انسانی وجود کا سب سے بڑا المیہ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں دو طرح کے گروہ

تاریخ کا دھارا بدل گیا: جب سپر پاور کو دنیا نے ‘نو’ کہہ دیا

  تاریخ کا دھارا بدل گیا: جب سپر پاور کو دنیا نے ‘نو’ کہہ دیا تمہید: فرعونیت کا زوال اور نئی تاریخ کا آغاز آج کی صبح جب دنیا بیدار ہوئی تو سورج کی کرنیں ایک بدلی ہوئی دنیا پر پڑ رہی تھیں۔ تاریخِ انسانی میں ایسے لمحات صدیوں بعد آتے ہیں جب وقت کا

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

فقیرانہ آئے صدا کر چلے میر تقی میر اردو شاعری کے وہ آفتاب ہیں جنہیں “خدائے سخن” کہا جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں جو سوز و گداز اور سادگی ہے، وہ کسی اور کے ہاں ملنا محال ہے۔ آپ کی فرمائش کے مطابق اس شاہکار غزل کی مکمل تشریح پیشِ خدمت ہے۔ شعر نمبر