کام مردوں کے جو ہیں
کام مردوں کے جو ہیں سو وہی کر جاتے ہیں جان سے اپنے جو کوئی کہ گزر جاتے ہیں موت کیا آکے فقیروں سے تجھے لینا ہے مرنے سے آگے ہی یہ لوگ تو مر جاتے ہیں دید وادید جو ہو جائے غنیمت سمجھو جوں شرر ورنہ ہم اے اہل نظر جاتے ہیں آنکھیں اس
کام مردوں کے جو ہیں سو وہی کر جاتے ہیں جان سے اپنے جو کوئی کہ گزر جاتے ہیں موت کیا آکے فقیروں سے تجھے لینا ہے مرنے سے آگے ہی یہ لوگ تو مر جاتے ہیں دید وادید جو ہو جائے غنیمت سمجھو جوں شرر ورنہ ہم اے اہل نظر جاتے ہیں آنکھیں اس
یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے شعر نمبر 1: یوں کہنے کو پیرایۂ اظہار بہت ہے یہ دل، دلِ نادان سہی، خوددار بہت ہے مفہوم: اگرچہ اپنی بات کہنے کے بہت سے طریقے اور انداز موجود ہیں، لیکن میرا دل اگرچہ نادان ہے مگر اپنی غیرت اور خودداری کی وجہ سے کسی کے سامنے
وغیرہ از انور مسعود شعر نمبر 1: ہے آپ کے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ مفہوم: محبوب کے ہونٹوں پر سجی مسکراہٹ اور اس کے دیگر ناز و انداز پر شاعر اپنی جان و دل نثار کرنے کا اظہار کر رہا ہے۔ تشریح: اس شعر میں انور
آدمی نامہ از نظیر اکبر آبادی بند نمبر 1 دنیا میں بادشاہ ہے سو ہے وہ بھی آدمی اور مفلس و گدا ہے سو ہے وہ بھی آدمی زردار بے نوا ہے سو ہے وہ بھی آدمی نعمت جو کھا رہا ہے سو ہے وہ بھی آدمی ٹکڑے چبا رہا ہے سو ہے وہ بھی
نظم آمد صبح از میر انیس بند نمبر 1 : پھولا شفق سے چرخ پہ جب لالا زارِ صبح گلزارِ شب خزاں ہوا، آئی بہارِ صبح کرنے لگا فلک زرِ انجم نثارِ صبح سرگرم ہوئے طاعتِ پروردگارِ صبح تھا چرخِ اخضری پہ یہ رنگ آفتاب کا کھلتا ہے جیسے پھول چمن میں گلاب کا مفہوم:
یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں شعر نمبر ۱: یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں مفہوم: ہم جیسے بھی ہیں، ہمیں اس بات پر ناز ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کے کچھ لمحات اپنے محبوب کی رفاقت
وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے، جو نشاطِ شامِ وصال دے شعر نمبر 1 (مطلع) وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے، جو نشاطِ شامِ وصال دے جو پلک جھپک میں گزر گئے، مجھے پھر وہی مہ و سال دے مفہوم: اے پروردگار! میری آنکھوں کو دوبارہ وہ خواب عطا کر جو ملاقات کی خوشی کا
وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے، جو نشاطِ شامِ وصال دے 1 ۔وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے جو نشاط شام وصال دے جو پلک جھپک میں گزر گئے مجھے پھر وہی مہ و سال دے 2 ۔ یہ گداگروں کی ہیں بستیاں یہاں چشم پوشی گناہ ہے تو امیر شہر جمال ہے تو زکوة
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں شعر نمبر 1 ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں مفہوم: اسمان پر نظر آنے والے ان گنت ستاروں کے پار بھی بے شمار دنیائیں موجود ہیں، اور اللہ کی محبت و معرفت کے راستے میں ابھی کئی کٹھن آزمائشیں باقی
سب کہاں کچھ لالا و گل میں نمایاں ہو گئیں شعر نمبر 1: سب کہاں کچھ لالا و گل میں نمایاں ہو گئیں خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں مفہوم: تمام خوبصورت چہرے دوبارہ نظر نہیں آتے، کچھ پھولوں کی صورت میں زمین سے باہر آ گئے ہیں، ورنہ نہ جانے