اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( غزل)

اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی( غزل) اے ہم سخن وفا کا تقاضا ہے اب یہی میں اپنے ہاتھ کاٹ لوں تو اپنے ہونٹ سی کن بے دلوں میں پھینک دیا حادثات نے آنکھوں میں جن کی نور نہ باتوں میں تازگی بول اے مرے دیار کی سوئی ہوئی زمیں میں جن

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی ( تشریح)

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی شعر نمبر 1: دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی مشکل الفاظ کے معنی: لہر: موج، خیال کا جوش، تڑپ۔ تازہ ہوا: خوشگوار جھونکا، یادِ یار۔ مفہوم: میرے دل میں اچانک ایک تڑپ اور یاد کی لہر پیدا ہوئی ہے،

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی(غزل)

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی کچھ تو نازک مزاج ہیں ہم بھی اور یہ چوٹ بھی نئی ہے ابھی شور برپا ہے خانۂ دل میں کوئی دیوار سی گری ہے ابھی بھری دنیا میں جی نہیں لگتا جانے

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے شعر نمبر 1: نہ تخت و تاج میں، نے لشکر و سپاہ میں ہے جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے مشکل الفاظ کے معانی: تخت و تاج: بادشاہت، سیاسی اقتدار۔ سپاہ: فوج، عسکری قوت۔ مردِ قلندر: درویش، وہ انسان جو دنیاوی حرص

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے(غزل)

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے جو بات مرد قلندر کی بارگاہ میں ہے صنم کدہ ہے جہاں اور مرد حق ہے خلیل یہ نکتہ وہ ہے کہ پوشیدہ لا الہ میں ہے وہی جہاں ہے ترا جس کو

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی( غزل)

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی عطارؔ ہو رومیؔ ہو رازیؔ ہو غزالیؔ ہو کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحرگاہی نومید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی اے طائر لاہوتی

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی(تشریح)

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی شعر نمبر 1 جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی کھلتے ہیں غلاموں پر اسرارِ شہنشاہی مشکل الفاظ کے معانی: آدابِ خود آگاہی: اپنی ذات کو پہچاننے کے طریقے، معرفتِ نفس۔ اسرارِ شہنشاہی: بادشاہی کے راز، حکمرانی کے گر۔ عشق: یہاں عشق سے مراد اللہ اور اس کے

جنگ موتہ ، اسباب ، واقعات اور نتائج

جنگ موتہ ، اسباب ، واقعات اور نتائج حضرت خالد بن ولید رضی اللّہ عنہ اس قدر اس جوش سے لڑے کے آپ کے ہاتھوں نو تلواریں ٹوٹیں کیا شیر تھے وہ لوگ آئیں پڑھیں ایک حوبصورت قصہ۔ آج نگاہِ فلک اِک عجب منظر دیکھ رہی تھی ، دو لاکھ کے ظالم اور متکبردشمن کے

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو( تشریح)

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو شعر نمبر 1 (مطلع) کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو مشکل الفاظ: نوا سنجِ فغاں (آہ و زاری کرنے والا)، زباں ہونا (بولنے کی طاقت

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو(غزل)

کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو کسی کو دے کے دل کوئی نواسنج فغاں کیوں ہو نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں چھوڑیں سبک سر بن کے کیا پوچھیں کہ ہم سے