دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دل انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے لوح جہاں پہ حرف

دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا

دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا شعر نمبر 1: دوست غم خواری میں میری سعئی فرمائیں گے کیا زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا مشکل الفاظ کے معانی: غم خواری: ہمدردی کرنا، دکھ بانٹنا۔ سعئی: کوشش، مدد۔ بھرنے تلک: مندمل ہونے تک، ٹھیک ہونے تک۔ مفہوم: میرے دوست

دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا

دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا دوست غم خواری میں میری سعی فرماویں گے کیا زخم کے بھرتے تلک ناخن نہ بڑھ جاویں گے کیا بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک ہم کہیں گے حال دل اور آپ فرماویں گے کیا حضرت ناصح گر آویں دیدہ و دل فرش

تجاہل تغافل تساہل کیا

تجاہل تغافل تساہل کیا شعر نمبر 1 تجاہل، تغافل، تساہل کیا ہوا کام مشکل، توکل کیا مشکل الفاظ کے معانی: تجاہل: جان بوجھ کر انجان بننا، دانستہ بے خبری۔ تغافل: غفلت برتنا، لاپرواہی، بے التفاتی۔ تساہل: سستی کرنا، دیر کرنا، غفلت کرنا۔ توکل: اللہ پر بھروسہ کرنا، معاملے کو اللہ کے سپرد کر دینا۔ مفہوم:

تجاہل تغافل تساہل کیا

تجاہل تغافل تساہل کیا تجاہل تغافل تساہل کیا ہوا کام مشکل توکل کیا نہیں تاب لاتا دل زار اب بہت ہم نے صبر و تحمل کیا زمین غزل ملک سی ہو گئی یہ قطعہ تصرف میں بالکل کیا جنوں تھا نہ مجھ کو نہ چپ رہ سکا کہ زنجیر ٹوٹی تو میں غل کیا نہ

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا شعر نمبر 1 اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا لہو آتا ہے جب نہیں آتا مشکل الفاظ کے معانی: اشک: آنسو لہو: خون مفہوم: عشق کی شدت کی وجہ سے میری آنکھوں سے ہر وقت آنسو بہتے رہتے ہیں اور جب آنسو ختم ہو جاتے ہیں تو ان کی

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا

اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا اشک آنکھوں میں کب نہیں آتا لوہو آتا ہے جب نہیں آتا ہوش جاتا نہیں رہا لیکن جب وہ آتا ہے تب نہیں آتا صبر تھا ایک مونس ہجراں سو وہ مدت سے اب نہیں آتا دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش گریہ کچھ بے سبب نہیں آتا عشق

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا شعر نمبر 1 تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا مشکل الفاظ کے معانی: یاں: یہاں (مراد دنیا) جلوہ فرما: ظاہر ہونا، نمودار ہونا، نظر آنا برابر: ایک جیسا، یکساں مفہوم: اگر اس دنیا میں آ کر انسان نے

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا

تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا تجھی کو جو یاں جلوہ فرما نہ دیکھا برابر ہے دنیا کو دیکھا نہ دیکھا مرا غنچۂ دل ہے وہ دل گرفتہ کہ جس کو کسو نے کبھو وا نہ دیکھا یگانہ ہے تو آہ بیگانگی میں کوئی دوسرا اور ایسا نہ دیکھا اذیت مصیبت ملامت بلائیں

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا

سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا شعر نمبر 1 سینہ و دل حسرتوں سے چھا گیا بس ہجومِ یاس جی گھبرا گیا مشکل الفاظ کے معانی: حسرت: افسوس، محرومی، وہ خواہش جو پوری نہ ہوئی ہو۔ چھا گیا: غالب آگیا۔ ہجومِ یاس: ناامیدی اور مایوسی کی کثرت۔ جی گھبرا گیا: طبیعت کا پریشان ہونا۔