دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں کیوں گردش مدام سے گھبرا نہ جاے دل انسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے لوح جہاں پہ حرف